بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

جاز کے مختلف چیلنج کا حکم


سوال

آج کل جاز کیش والوں نے مختلف چیلنج شروع کیے ہیں، مثلاً اگر کسی نے اپنے جاز کیش ایپ سے سات دن کے اندر کم از کم تیس روپے لوڈ کیے تو سات دن کے بعد آپ کو 100 روپے مل جائیں گے،  اس طرح دوسرا چیلنچ یہ تھا کہ اگر آپ تین دوستوں سے ایک یا ایک سے زیادہ پیسے منگوائیں سات دن کے اندر تو آپ کو سو روپے مل جائیں گے، اسی طرح ان تین چیلنجوں کو پورا کرنے کے بعد ایک اور چیلنج دیا کہ جس نے یہ تین چیلنج پورے کیے اگر وہ بندہ یہ چیلنج بھی پورا کرے تو  اس کو 4000 روپے ملیں گے، اور ساتھ ہی 7000 روپے ملنے کا امکان۔

سوال یہ ہے کہ کیا بندے کے لیے ان پیسوں کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کو قرضہ دے کر اس کی بنیاد پر کوئی نفع حاصل کرنا سود ہے۔

پیسوں کی ترسیل کی کمپنیوں کے مختلف پیکجز میں یہ صورت پائی جائے کہ پیسے وہاں اس لیے جمع کرائے جائیں کہ ان پر نفع ملے تو یہ سود کی تعریف میں داخل ہے۔ اور ناجائز ہے، اور اگر محض  کوئی انعام اس بنیاد پر دیا جائے کہ ان کی سروسز کو استعمال کیا جائے یا  ایک دوسرے کو پیسے بھیجے، اس پر کوئی انعام دیا جائے تو یہ صورت  سود  میں داخل  نہیں۔

اس قاعدے سے مذکورہ صورتوں (کی تفصیل معلوم کرکے ان) کا حکم معلوم کرلیا جائے۔

"فتاوی شامی" میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن". (5/166، مطلب کل قرض جر نفعًا، ط: سعید)

"اعلاء السنن"میں ہے:

" قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً  أو هدیةً فأسلف علی ذلک، إن أخذ الزیادة علی ذلک ربا". (14/513، باب کل قرض جر  منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارة القرآن)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں