بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

جاز اکاؤنٹ کا حکم


سوال

جیز کمپنی والے موبائل میں1000 روپے رکھنے پر آپ کو 30 منٹ روزانہ دیتے ہےاور 1000 روپیا آپ کا محفوظ رہتا ہے، اس سے کٹوتی نہیں ہوتی،  کیا یہ سود میں تو نہیں  آتا ؟ راہ نمائی کریں!

جواب

ہماری معلومات کے مطابق جاز کمپنی اپنے صارف کو یہ سہولت دیتی ہے کہ صارف اپنے نمبر پر ہزار روپے جمع کرائے اور اس کے عوض کمپنی روزانہ 30 منٹ فراہم کرتی ہے اور ہزار روپے میں کٹوتی نہیں کرتی اور صارف جب چاہے  1000 روپے واپس بھی لے سکتا ہے؛ مذکورہ طریقہ کار میں صارف کی شرعی حیثیت قرض دینے والے کی ہوتی ہے جب کہ کمپنی کی شرعی حیثیت مقروض کی ہوتی ہے، اور  جاز کمپنی کی جانب سے صارف کو روازنہ 30 منٹ کی فراہمی کی شرعی حیثیت قرض پر منافع کی ہے جو کہ سود ہے ؛ لہذا مذکورہ سہولت سے فائدہ اٹھا نا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ جیسا کہ ''فتاوی شامی'' میں ہے:

''(قوله : كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً كما علم مما نقله عن البحر''. ( مطلب كل قرض جر نفعاً حرام ٥/ ١٦٦ ط: سعيد)

''البحر الرائق'' میں ہے:

''ولا يجوز قرض جر نفعاً، بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاماً في مكان بشرط رده في مكان آخر... و في الخلاصة: القرض بالشرط حرام''. ( فصل في بيان التصرف في المبيع و الثمن ٦/ ١٣٣، ط:دار الكتب الاسلامي)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200042

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے