بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جادو کا الزام لگانے والے حکم


سوال

مجھ پر ایک عالم دین اور عملیات کرنے والے شخص نے الزام لگایا ہےکہ میں ان پر سفلی کا عمل یعنی کالا جادو کر تاہوں، ان کا کہنا یہ ہے کہ جس کی وجہ سے ان کی فرض نماز کی رکعتیں نکل جاتی ہیں اور مؤذن کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور دیگر معمولات بھی جادو کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں، الحمد للہ میرا بیٹا اور بھائی بھی ملک کے  ایک معروف ادارے  سے حافظ قرآن ہے اور بیٹا عالم بن رہا ہے، الحمد للہ میرے خاندان کا تعلق علماءکرام سے وابستہ ہے، جب کہ میں الزام تراشی کرنے والے کے سامنے حلفیہ کہہ چکاہوں کے میں کوئی جادو یا کوئی بھی کفریہ عمل نہیں کر تا ہو ں،لیکن وہ یقین کر نے کو تیار نہیں، میں اللہ کو حاضرناظر جان کر گواہی دیتا ہوں کہ کالا جادو کرنا یا کروانا دونوں ناجائز اور حرام ہے اور کفر ہے اور میں اس گناہ میں ملوث نہیں ہوں  اور جولوگ ایسے کام کر تے ہیں، اللہ ان پر لعنت نازل فرمائے( آمین) ،برائے مہربانی اس مسئلے کے بارے میں میری شرعی اورمدلل راہ نمائی فرمائیں:

 1۔ آیا کہ الزام لگا نے والے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

 2۔ میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

اگر سائل واقعۃً جادو  /سحر جیسے حرام عمل میں ملوث نہ ہو، اور مذکورہ دعوے دار کے پاس کوئی شرعی گواہی بھی موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں الزام لگانے والا گناہ گار ہوگا،اور سائل سے معافی نہ مانگنے  کی صورت میں اس کا یہ عمل آخرت میں پکڑ کا باعث ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200311

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں