بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

جائے ملازمت میں پندرہ یوم سے کم قیام کی صورت میں قصر کا حکم


سوال

میں ایک پرائیویٹ سکول میں ملازم ہوں۔ یہ جگہ اور شہر میرے گھر سے تقریباً 300 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، میری آنے جانے کی ترتیب یہ ہے کہ مجھےہراتوار کو گھر سے سکول آنا ہوتا ہے اور ہر جمعرات کوواپس گھر جانا ہوتاہے، یعنی میرا قیام یہاں صرف 4 دن ہوتا ہے۔آپ سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا میری نماز مقیم والی ہو گی یا مسافر والی جب کہ یہ ایک شخصی ادارہ ہے اور ہماری ملازمت فردِواحد کی مرہونِ منت ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ اگر اتوار کے دن اسکول  جاکر صرف چار یا پانچ دن گزار کر واپس اپنے گھر آجاتے ہیں اور وہاں اب تک آپ پندرہ دن یا اس سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیںتو آپ جائے ملازمت  میں قصر (سفرانہ) نماز پڑھیں گے، البتہ اگر آپ ایک دفعہ بھی جائے ملازمت  میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرکے وہاں مقیم ہوجائیں گے تو پھر اسکول (جائے ملازمت) آپ کا وطنِ اقامت بن جائے گا، پھر جب تک ملازمت کے سلسلے میں وہاں آپ کا آنا جانا لگا رہے گا اس وقت تک آپ وہاں ہمیشہ پوری نماز پڑھیں گے، چاہے تین، چار دن کا قیام ہی کیوں نہ ہو۔البتہ جب تک پندرہ یوم آپ وہاں قیام نہ کرلیں، اس وقت تک چار پانچ دن رہنے کی صورت میں قصر ہی ادا کریں گے۔

البحر الرائق میں ہے :

"كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ... وأما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه، وهو صالح لها نصف شهر". (2/ 147)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں