بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جائیداد کی تقسیم


سوال

 میرے والدین حیات ہیں الحمداللہ۔اور ہم سات بھائی اور ایک بہن ہیں، اور سب شادی شدہ ہیں۔ چار بھائی باہر ملکوں میں اپنے بیوی بچوں سمیت رہتے ہیں۔ ایک بھائی ہم سے الگ ہے، اور اپنے بیوی بچوں سمیت ہمارے محلے میں رہتا ہے اور نوکری کرتا ہے۔ بہن شادی شدہ ہیں۔ اور میں اور سب سے بڑے بھائی والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ بڑے بھائی کا ایک بیٹا بھی بمعہ بیوی بچوں باہر ملک میں ہے۔ ان کا دوسرا بیٹا شادی شدہ ہے اور ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ اپنا چھوٹا موٹا کام کرتا ہے۔ان کا تیسرا بیٹا غیر شادی شدہ ہے اور بوجہ نافرمانی گھر سے الگ کیا گیا ہے۔بڑے بھائی کی ایک غیر شادی شدہ بیٹی ہے۔ میں اور بڑے بھائی اپنے والد صاحب کے قائم شدہ کاروبار کو چلا رہے ہیں۔ والد صاحب دو تین سالوں سے دکان میں عملی طور پر نہیں ہیں۔ میں اور بڑے بھائی اب الگ ہونا چاہ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جدائی جائیداد اور کاروبار کی تقسیم کی وجہ بن جائے۔ اگر یہ صورتِ حال ہو اور والد صاحب بہ رضا و خوشی جائیداد اور کاروبار کو بچوں میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنا چاہیں۔ تو اس کی کیا صورت ہوگی؟  جو غیر منقولہ جائیداد ہے، دکانات اور مکانات وغیرہ اور جو کاروبار ہےاس کی؟ باہر رہائش پذیر بھائیوں کا کیا حصہ ہوگا؟ تین بھائیوں نے باہر ملک میں بنک سے اقساط پر گھر لے رکھے ہیں، ایک بھائی باہر ملک میں کرایہ پر رہ رہا ہے۔ کیا ان کو اپنے وہ اثاثے والد صاحب کی جائیداد کےساتھ شامل کرنے ہوں گے؟ اگر ان بھائیوں میں سے کسی بھائی نے پیسے بھیجے ہوں اور والد صاحب نے ان پیسوں سے اپنے نام زمین خریدی ہو وہ بھی اس تقسیم میں شامل ہو گی یا وہ اس بھائی کی ملکیت سمجھی جائے؟

جواب

مذکورہ صورت میں آپ   کے والد کا کاروبار جس میں آپ لوگ کام کررہے ہیں اور والد صاحب کچھ عرصہ سے کام میں شریک نہیں والد ہی کی  ملکیت ہے۔ 

والد کی زندگی میں ان کی جائیداد میں  ان کی  اولاد کا میراث کا حصہ نہیں ہوتا،اور نہ ہی اولاد کو کسی حصہ کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔

البتہ اگر اپنی خوشی سے  اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کریں  تو تمام اولاد کے درمیان برابری کرنا ضروری ہے،یعنی  جتناایک بیٹے کو دیں اتنا ہی دوسرے بیٹے کو بھی دیں،اوراگر کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی زیادہ ضرورت یا خدمت گزاری کی وجہ سے زیادہ دیں تو یہ بھی جائز ہے، خواہ وہ ملک میں رہتا ہو یا بیرون ملک۔ ساری جائیداد کسی کو دے دینا یا کسی کو بالکل محروم کردینا جائز نہیں۔

نیز اگر ان بھائیوں میں سے کسی بھائی نےوالد صاحب کو ہدیۃً پیسے بھیجے ہوں اور والد صاحب نے ان پیسوں سے اپنے نام زمین خریدی ہو  تو اوہ بھی والد کی ملکیت ہے، اگر وہ چاہیں تو اس کو بھی  اس تقسیم میں شامل کر سکتے ہیں۔

اوراگر بھائیوں میں سے کسی بھائی نےوالد صاحب کو ہدیۃً  پیسے نہ بھیجے ہوں بلکہ اپنی  انویسمنٹ کے لیے بھیجے ہوں اور اس کی وضاحت کردی ہو، خواہ اشارۃً بتادیا ہو اور والد صاحب نے ان پیسوں سے اپنے نام پر زمین خریدی ہو تو اس نام پر ہونے سے ان کی ملکیت نہیں ہوگی، بلکہ  وہ اس بھائی کی ملکیت سمجھی جائے گی اور تقسیم میں شمار نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے