بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

جائز آمدنی والے کے لیے ناجائز آمدنی والے کے ساتھ رہنا


سوال

میں اسلام آباد میں رہتا ہوں اور میرے جو روم پارٹنر ہے ۔تینوں خوش حالی بینک میں جاب کرتے ہیں۔ تو کیا میرے لیے اسں کے ساتھ رہنا جائز ہے؟اور ایک ساتھ کھانا پینا جائز ہے؟

جواب

بینک کی آمدن میں سود اور ناجائز منافع سے ہوتی ہے، نیز سودی اور ناجائز معاملات میں تعاون بھی ہوتا ہے۔ اس لیے بینک کی ملازمت جائز نہیں ہے،اور اس ملازمت سے ملنے والی آمدن حرام ہے۔ان کو کسی جائز ذریعہ سے ملازمت تلاش کرنی چاہیے۔

باقی حرام آمدنی والوں کے ساتھ کھانے وغیرہ کے اخراجات میں شراکت داری کرنا جائز نہیں۔ آپ دوسری جگہ تلاش کریں،  جب تک نہ ملے، انہیں حکمت سے سمجھا کر اپنا کھانا پینا علیحدہ رکھیں، یا اگر وہ کسی جائز آمدنی والے سے قرض لے کر شامل ہوتے رہیں، تو آپ کا کھانا جائز ہوجائےگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200734

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے