بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ثمن بعد میں دوں گا کہنے سے ادائیگی کب لازم ہے؟


سوال

خرید وفروخت کے وقت ثمن کی ادائیگی کا وقت مقرر نہیں کیا، بلکہ مشتری نے مطلق کہہ دیا کہ "بعد میں دوں گا" تو یہ بیع ادھار کہلاۓ گی یا نقد اور بائع کو مطالبہ کا حق ہر وقت ہوگا یا خاص وقت گزرنے کے بعد ؟

جواب

بیع میں ادہار اور نقد دونوں صورتیں شرعاً جائز ہیں، لیکن اگر ثمن معجل نہ ہو یعنی فوری ادائیگی نہ ہو، بلکہ ثمن کی ادائیگی تاخیر کے ساتھ ہو تو اس صورت میں ادائیگی کی مدت کا مقرر کرنا لازم ہے، اگر مدت مقرر نہ کی بلکہ مطلقاً  کہا کہ بعد  میں دے دوں گا اس سے شرعاً بیع فاسد ہوجاتی ہے، اور فساد ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ مشتری یا تو فوری ثمن اداکردے یا بائع کی رضامندی سے ثمن کی ادائیگی کاکوئی متعین وقت مقرر کردے۔

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول - (15 / 124):
"(قوله: وصح بثمن حال وبأجل معلوم) أي البيع لإطلاق النصوص، و في السراج الوهاج: إنّ الحلول مقتضى العقد وموجبه، و الأجل لايثبت إلا بالشرط ا هـ. قيد بعلم الأجل؛ لأنّ جهالته تفضي إلى النزاع فالبائع يطالبه في مدة قريبة والمشتري يأباها فيفسد". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200931

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں