بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

تھکاوٹ کی وجہ سے سنت نماز کو چھوڑنے کا حکم


سوال

تھکاوٹ کی صورت میں آدمی سنت کو چھوڑ کر فرض نماز پڑھے، تو کیا گناہ ہے؟

جواب

صرف تھکاوٹ کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ  کو چھوڑنا محرومی اور گناہ کی بات ہے، البتہ اگر کوئی شخص شرعی سفر یا سخت بیماری کی مشقت کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ نماز چھوڑ کر صرف فرض پڑھ لے تو وہ آدمی گناہ گار نہیں ہوگا۔ باقی سنتِ غیر مؤکدہ نماز کا حکم یہ ہے کہ اس کا پڑھنا بہت اجر و ثواب کا باعث ہے، لیکن اس کے بلا عذر  چھوڑنے سے بھی گناہ نہیں ملتا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200854

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں