بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1445ھ 30 ستمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

تقلید کا حکم


سوال

تقلید کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں!

جواب

"تقلید"  کہتے ہیں کہ کسی ناواقف / عام آدمی کا کسی غیرمنصوص اجتہادی مسئلہ میں مجتہد کی بات کو بغیر مطالبہ دلیل کے ماننا کہ یہ جو مسئلہ بھی بتائے گا صحیح بتائے گا۔تقلید امت میں شروع سے متواتر معمول رہی ہے۔

نیز واضح رہے کہ تقلید صرف ان مسائل میں ہوتی ہے جو اجتہادی ہوں جن کا سمجھنا عوام کی سمجھ سے باہر ہو، اور  وہ مسائل جو منصوص ہیں جیسے نماز پڑھنا، ایمان لانا، حج کرنا، روزے رکھنا، یا جن کا حرام ہونا واضح ہے جیسے چوری، زنا، ڈکیتی وغیرہ ان مسائل میں تقلید کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ان میں کسی امام کی تقلید کی جاتی ہے۔ تقلید کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ کبھی مسئلہ اجمالی طور پر بیان ہوتا ہے، مگر اس کی تفصیل مطلوب ہوتی ہے، مجتہد ان تمام حالات میں جہاں امت کسی گرداب میں پھنس جائے آکر ان کے لیے راہِ عمل متعین کرتا ہے۔

قرآن پاک میں ارشادِ خداوندی ہے:

﴿فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾  (النحل:43 

مذکورہ آیت کے الفاظ عام ہیں، جو قرآنی اسلوب کے اعتبارسے   در حقیقت اہم ضابطہ ہے جو عقلی بھی ہے، اورنقلی بھی  کہ جو لوگ یہ احکام نہیں جانتے وہ جاننے والوں سے پوچھ کر عمل کریں ، اورنہ جاننے والوں پر فرض ہے کہ جاننے والوں کے بتلانے پر عمل کریں، اسی کا نام تقلید ہے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ بیشک مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے درمیان میں میری زندگی کتنی باقی ہے؛ لہٰذا میرے بعد تم ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی اقتدا کرنا۔ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنا۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو بھی بات بیان کریں اس کی تصدیق کرنا۔ مذکورہ صحیح حدیث شریف سے تقلید کا حکم صاف طور پر واضح ہوجاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقلید کا حکم فرمایا ہے۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:

مسند أحمد ط الرسالة (38/ 310):

"عن حذيفة قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم جلوساً فقال: " إني لا أدري ما قدر بقائي فيكم؟ فاقتدوا بالّذين من بعديـوأشار إلى أبي بكر، وعمرـ، وتمسكوا بعهد عمار، وما حدثكم ابن مسعود فصدقوه. "

تقلید شخصی کے وجوب کی نظیر

اس کی مثال بعینہ وہ ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے باجماعِ صحابہ قرآن کے سبعہ احرف (یعنی سات لغات) میں سے صرف ایک لغت کو مخصوص کردینے میں کیا کہ اگر چہ ساتوں لغات قرآن ہی کی لغات تھیں،  جبرئیل امین کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق نازل ہوئیں، مگر جب قرآنِ کریم عجم میں پھیلا اور مختلف لغات میں پڑھنے سے تحریفِ قرآن کا خطرہ محسوس کیا گیا تو باجماعِ صحابہ یہ مسلمانوں پر لازم کردیا گیا کہ صرف ایک ہی لغت میں قرآن کریم لکھا اور پڑھا جائے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسی ایک لغت کے مطابق تمام مصاحف لکھوا کر اطرافِ عالم میں بھجوائے اور آج تک پوری امت اسی کی پابند ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسرے لغات حق نہیں تھے، بلکہ انتظامِ دین اور حفاظتِ قرآن از تحریف کی بنا پر صرف ایک ہی لغت اختیار کرلی گئی، اسی طرح ائمہ مجتہدین سب حق ہیں، ان میں سے کسی ایک کو تقلید کے لیے معین کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس امامِ معین کی تقلید کسی نے اختیار کی ہے اس کے نزدیک دوسرے ائمہ قابلِ تقلید نہیں، بلکہ کسی ایک امام کی تقلید اختیار کرلینے کے بعد تمام مسائل میں اسی کی تقلید ضروری ہونے کے ساتھ  دوسرے ائمہ کو بھی اسی طرح واجب الاحترام سمجھنا ہوگا۔

ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید امر لازمی ہے ، اگر یہ آزادی دی جائے کہ جس مسئلہ میں چاہیں کسی ایک امام کا قول اختیار کرلیں ، اور جس میں چاہیں کسی دوسرے کا قول لے لیں، تو اس کا لازمی اثر یہ ہونا تھا کہ لوگ اتباعِ شریعت کا نام لے کر اتباعِ ہویٰ میں مبتلا ہوجائیں کہ جس امام کے قول میں اپنی غرضِ نفسانی پوری ہوتی نظر آئے اس کو اختیار کرلیں اور یہ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا کوئی دین و شریعت کا اتباع نہیں ہوگا، بلکہ اپنی اغراض و ہویٰ کا اتباع ہوگا، جو باجماع امت حرام ہے۔

مزید تفصیل درج ذیل لنک میں ملاحظہ فرمائیں:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%AA%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%B9%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%DA%A9%D8%B3-%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92/21-08-2018

نیز درج ذیل لنک بھی ملاحظہ کیجیے:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%A7%D8%A6%D9%85%DB%81-%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AF-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%92/17-07-2018

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں