بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تقلید کا حکم اور حضرت عیسی علیہ السلام کس امام کی تقلید کریں گے؟


سوال

کیا تقلید واجب ہے؟ اگر واجب ہے تو امام ابو حنیفہ کی ہی تقلید واجب ہے یا کسی اور کی بھی؟ نیز حضرت عیسی علیہ السلام کس کی تقلید کریں گے؟

جواب

جواب سے پہلے  چند باتوں کا ذکرکرنا مناسب ہے:

1۔مسلمان کے پیشِ نظر اور اس کا مطمحِ اصلی  اللہ تعالی کی اطاعت ہے، نبی کریم ﷺ اللہ رب العزت کے احکام کے ترجمان ہیں؛ اس لیے ان کی اطاعت بھی ضروری ہے، کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالی اور نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور کوبالذات  قابلِ اطاعت سمجھے۔ البتہ جن کی اطاعت کا اللہ رسول حکم دیں ان کی اطاعت درحقیقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہی اطاعت ہے، مثلاً: جائز امور میں والدین کی اطاعت کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے، لہذا والدین کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول ہی کی اطاعت سمجھی جائے گی۔ اسی طرح جو علماء وفقہاءِ کرام امت کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور جنت کی راہ کی ہدایت کریں ان کی اطاعت درحقیقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہی اتباع ہے۔

2۔ قرآن و سنت کے احکام دو قسم کے ہیں: پہلی قسم ان احکام کی ہے جن کو ہر عربی دان سمجھ سکتا ہے، جیسے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:  (تم ایک دوسرے کی غیبت مت کرو)،اس طرح کی کئی آیتیں ہیں جو وعد و وعید  اور اصولی مضامین کے مضامین پر مشتمل ہیں۔

دوسرے قسم میں وہ احکام ہیں جن کے مفہوم و معانی تک ہر کس و ناکس نہیں پہنچ سکتا، مثلًا اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: (طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین قروء تک روکے رکھیں گی)، لفظ "قروء"  حیض اور طہر دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، اس آیت میں اس لفظ کا معنی کیا ہے؟ کوئی ایک معنی مراد لینے کی صورت میں کئی احکام میں تبدیلی واقع ہوگی، یہ تعیین مجتہد کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں کرسکتا، قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ  میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں، اسی طرح احادیثِ مبارکہ کے مجموعے میں بعض احادیث ظاہری طور پر ایک دوسرے کی مخالف اور متعارض ہیں، ان میں  تطبیق (جوڑ) یا ترجیح (ایک کو لے کر دوسرے کو دلیل کی بنا پرچھوڑ دینے) کی کیا صورت ہوگی؟ یہ کام بھی ہر ایک کے بس کا نہیں۔

3۔تقلید کی نوعیت کے لحاظ سے دو قسم کے دور گزرے ہیں:تقلیدِ غیر شخصی کا دور اور تقلیدِ شخصی کا دور۔

تقلیدِ غیر شخصی کا دور:

 نبی کریم ﷺ کے دور مبارک میں مسائلِ دینیہ حاصل کرنے کے تین طریقے تھے، ایک خود جناب رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی، دوسرا طریقہ اجتہاد اور تیسرا تقلید، جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے قریب تھے یا ان کے لیے  نبی کریم ﷺ سے ملاقات یا رابطہ آسان تھا تو وہ حضور ﷺ سے مسائل دریافت کرلیا کرتے تھے، لیکن جو لوگ حضور ﷺ سے ملاقات یا رابطہ نہیں رکھ سکتے تھے اور وہ حضرات اجتہاد کی صلاحیت رکھتے تھے تو وہ  اجتہاد کرلیتے تھے، لیکن اگر ان میں اجتہاد کی صلاحیت اور ملکہ نہ ہوتاتو جو عالمِ دین مل جاتا اس سے تحقیق کرلیتے اور اس پر عمل پیرا ہوجاتے تھے۔

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد دین حاصل کرنے کے دو ہی طریقے باقی رہ گئے ایک اجتہاد اور دوسرا تقلید، اللہ کے فضل و کرم سے اس امت میں کئی مجتہدین پیدا ہوئے، لیکن ابتدا میں کسی مجتہد کے مسائل منضبط اور مدون نہیں تھے، اس لیے کسی خاص مجہتد کے تمام مسائلِ اجتہادیہ کی اطلاع حاصل کرنا  اور اس پر عمل کرنا آسان نہیں تھا، لہذا جس کو جو مجتہد مل جاتا اس سے اپنی ضرورت کا مسئلہ دریافت کرکے اس میں مسئلہ میں اس کی تقلید کرلیتا ، کسی خاص مجتہد کی پابندی نہ تھی، لوگوں کی طبیعتوں میں دین اور تقوی کے غلبہ کی وجہ سے اس کی ضرورت بھی نہ تھی، یہ سلسلہ دوسری صدی کے اخیر تک بلا کسی نکیر کے جاری رہا، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ "عقد الجید" میں فرماتے ہیں:

"لأن الناس لم يزالوا من زمن الصحابة إلى أن ظهرت المذاهب الأربأة يقلدون من اتفق من العلماء من غير نكير من أحد يعتبر إنكاره و لو كان ذلك باطلًا لأنكروه". ( ص: ۳۳)

تقلیدِ شخصی کا دور:

جب دوسری صدی ہجری میں مجتہدینِ کرام کے اصول و فروع کی تدوین اور ترتیب کا سلسلہ شروع ہوا تو لوگوں میں ایک متعین مذہب کی تقلید کا سلسلہ شروع ہوا، لیکن یہ سلسلہ موجودہ زمانہ میں مروج چار مذاہب تک محدود نہ تھا، بلکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے مجتہدین کے ماننے والے پائے جاتے تھے، یہ سلسلہ چوتھی صدی ہجری تک جاری رہا، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ”الإنصاف“ میں لکھتے ہیں:

"و بعد المأتين ظهر فيهم التمذهب للمجتهدين بأعيانهم، وقل من كان لايعتمد على مذهب مجتهد بعينه، وكان هذا هو الواجب في ذلك الزمان". ( الإنصاف ص: 52)

مذاہبِ اربعہ میں تقلیدِ شخصی کا انحصار:

چوتھی صدی ہجری میں جب مذاہبِ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کی کتابیں مرتب اور مدون ہوکر تمام دنیا میں پھیل گئیں اور ان مذاہب پر عمل کرنا آسان ہوگیا اور ان کے علاوہ دیگر مجتہدینِ کرام کے مذاہب کے آثار رفتہ رفتہ مفقود ہوتے چلے گئے  اور اب کسی نئے اجتہاد کی ضرورت نہ رہی تو انہی چاروں مذاہب کے اندر تقلید شخصی کا انحصار ہوکر رہ گیا، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ  ”عقد الجید“میں لکھتے ہیں:

"لما اندرست المذاهب الحقة إلا هذه كان اتباعها اتباعًا لسواد الأعظم". (عقد الجيد ص: 33)

علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ اپنے مقدمہ میں لکھتے ہیں:

"ووقف التقليد في الأمصار عند هؤلاء الأربعة، ودرس المقلدون لمن سواهم. وسد الناس باب الخلاف وطرقه لما كثر تشعب الاصطلاحات في العلوم. ولما عاق عن الوصول إلى رتبة الاجتهاد، ولما خشي من إسناد ذلك إلى غير أهله، ومن لا يوثق برأيه ولا بدينه، فصرحوا بالعجز والإعواز، وردوا الناس إلى تقليد هؤلاء، كل من اختص به من المقلدين. وحظروا أن يتداول تقليدهم لما فيه من التلاعب. ولم يبق إلا نقل مذاهبهم. وعمل كل مقلد بمذهب من قلده منهم بعد تصحيح الأصول واتصال سندها بالرواية، لا محصول اليوم للفقه غير هذا ومدعي الاجتهاد لهذا العهد مردود منكوص على عقبه مهجور تقليلده. وقد صار أهل الإسلام اليوم على تقليد هؤلاء الأئمة الأربعة". (مقدمة ابن خلدون، (1 / 257)

تقلید کا ثبوت قرآنِ کریم سے:

1: ﴿فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [النحل:43]

ترجمہ:اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے دریافت کرو۔

صاحبِ روح المعانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ جس بات کا علم نہ ہو اس میں علماء سے معلوم کرنا اور ان کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔

"واستدل بها أيضاً على وجوب المراجعة للعلماء فيما لا يعلم".

روح المعانى  (7 / 387):

حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ علماء کا اس بات میں اختلاف نہیں کہ عام لوگوں کے ذمہ اپنے علماء کی تقلید کرنا واجب ہے، اور اللہ رب العزت کے ارشاد سے یہی لوگ مراد ہیں، ان سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اندھے کو جب قبلہ کی سمت معلوم نہ ہو تو اس پر لازم  ہے کہ وہ اس شخص کی تقلید اور پیروی کرے جس کی تمییز پر اسے بھروسہ ہو، اسی طرح وہ لوگ جن کے پاس دینی علم نہیں اور وہ دینی بصیرت سے عاری ہیں ان کے ذمہ اپنے عالم کی تقلید لازم ہے۔

"ولم تختلف العلماء أن العامة عليها تقليد علمائها، وأنهم المرادون بقول الله عز وجل: ﴿فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ [النحل: 43] وأجمعوا على أن الأعمى لا بد له من تقليد غيره ممن يثق بميزه بالقبلة إذا أشكلت عليه، فكذلك من لا علم له ولا بصر بمعنى ما يدين به لا بد من تقليد عالمه".

جامع بيان العلم وفضله - مؤسسة الريان - (2 / 230):

2۔ ﴿يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [ النساء : 59]

ترجمہ: اے ایمان والو!  اللہ، رسول اور اپنے میں سے "اولو الامر"  کی اطاعت کرو۔

علامہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں "اولو الامر"  سے علمائے مجتہدین مراد لینا زیادہ بہتر ہے۔

"وخامسها: أن أعمال الأمراء والسلاطين موقوفة على فتاوي العلماء، والعلماء في الحقيقة أمراء الأمراء، فكان حمل لفظ أولي الأمر عليهم أولى".

تفسير الرازي : مفاتيح الغيب ـ موافق للمطبوع - (10 / 117):

3۔ ﴿وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ﴾ [النساء: 83]

ترجمہ: جب ان کے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں ، اگر پیغمبرِ خدا اور اپنے میں   سے "اولی الامر" کے پاس اسے لے جاتے تو ان میں جو اہلِ استنباط (یعنی مجتہدین) ہیں اسے اچھی طرح جان لیتے۔

علامہ رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عام آدمی پر واجب ہے کہ وہ پیش آمدہ مسائل میں علماء کی تقلید کریں۔

"إذا ثبت هذا، فنقول: الآية دالة على أمور. أحدها: أن في أحكام الحوادث ما لا يعرف بالنص بل بالاستنباط. وثانيها: أن الاستنباط حجة. وثالثها: أن العامي يجب عليه تقليد العلماء في أحكام الحوادث".

تفسير الرازي : مفاتيح الغيب ـ موافق للمطبوع - (10 / 159):

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات پیش خدمت ہیں:

1۔ تقلید واجب ہے۔

2۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ یا ان کے علاوہ ائمہ (امام مالک، شافعی یا احمد بن حنبل رحمہم اللہ ) میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے،  جس امام کی اتباع اپنے اوپر لازم کرلی جائے تو تمام مسائل میں اس مذہب کے مطابق عمل کیا جائے گا، ایک مسئلہ میں ایک مذہب اور دوسرے مسئلے میں دوسرے مذہب پر عمل کرنا خواہشاتِ نفسانی پر چلناہے، ایسا کرنا درست نہیں۔

3۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب آخری زمانے میں تشریف لائیں گے تو وہ ائمہ اربعہ میں سے کسی کے مذہب کے مطابق عمل کریں  نہیں کریں گے ، بلکہ وہ اجتہاد کریں گے اور اس کے مطابق فیصلے فرمائیں گے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ  انہیں وحی کے ذریعہ پہلے سے ہی ہماری شریعت سکھلادی گئی تھی ، وہ اس کے مطابق عمل کریں گے۔

تیسرا قول یہ ہے کہ انہیں آسمانوں میں علم عطا کیا جائے گا، اس کے مطابق عمل کریں گے۔

چوتھا قول یہ ہے کہ وہ قرآن کریم میں غور و فکر کرکے اس سے احکام سمجھیں گے۔

" فكما كان مذهب الإمام أبي حنيفة أول المذاهب المدونة فكذلك يكون آخرها انقراضاً، وبذلك قال أهل الكشف ا هـ لكن لا دليل في ذلك، على أن نبي الله عيسى على نبينا وعليه الصلاة والسلام يحكم بمذهب أبي حنيفة وإن كان العلماء موجودين في زمنه، فلا بد له من دليل، ولهذا قال الحافظ السيوطي في رسالة سماها الإعلام ما حاصله : إن ما يقال إنه يحكم بمذهب من المذاهب الأربعة باطل لا أصل له، وكيف يظن بنبي أنه يقلد مجتهداً مع أن المجتهد من آحاد هذه الأئمة لا يجوز له التقليد، وإنما يحكم بالاجتهاد، أو بما كان يعلمه قبل من شريعتنا بالوحي، أو بما تعلمه منها وهو في السماء، أو أنه ينظر في القرآن فيفهم منه كما كان يفهم نبينا عليه الصلاة والسلام ا هـ واقتصر السبكي على الأخير". (رد المحتار (1 / 151 و 152) ط: دار عالم الکتاب) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے