بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

میری نافرمانی کی توتمہیں طلاق


سوال

کل میرے شوہر نےمجھےغصےمیں کہا کہ ’’اگر تم نے میری نافرمانی کی تو میری طرف سے تم کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے’’،  تو کیا میری طلاق واقع ہو گئی؟ اور  اگر نہیں  ہوئی  تو کس طرح کی شرائط پر واقع ہو  جائے  گی؟ اور تھوڑی دیر بعد جب غصہ ختم ہوا  تو کہا میں نے اپنی شرط واپس لی. تو کیا طلاق کی شرط واپس ہو گئی؟ یا اب یہ ساری عمر کے لیے قائم ہو گئی؟

جواب

جب آپ کے شوہر نے آپ کو غصہ میں کہا کہ "اگر تم نے میری نافرمانی کی تو میری طرف سے تم کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے" تو ان الفاظ سے آپ کی طلاق نا فرمانی کی شرط کے ساتھ  معلق ہو گئی، اب اگر آپ نے اپنے شوہر کی نافرمانی کی (یعنی ایسا کوئی کام کیا جس کو نافرمانی کہا جاتا ہو) تو آپ پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اس کے بعد شوہر کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنی شرط واپس لے لے، اس کے شرط واپس لینے سے شرط ختم نہیں ہو گی۔

البتہ اگر تین طلاق سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کے شوہر آپ کو ایک طلاق دے دیں، پھر عدت گزرنے کے بعد نافرمانی کر لی جائے، اس طرح کر لینے سے شرط بھی پائی جائے گی اور تین طلاق بھی واقع نہ ہو گی، اس کے بعد دوبارہ نکاح کر لیں، آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا حق حاصل رہے گا اور دوبارہ نافرمانی کی صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے