بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

تعزیت کے موقع پر ہاتھ اٹھانا


سوال

میت کی تعزیت کے لیے محلے کی مسجد میں تین دن جو فاتحہ خوانی ہوتی ہے، اکثر لوگ اس کو ہاتھ اٹھا کر اور جہر کے ساتھ کرتے ہیں، تو  کیا یہ سراً ہونا چاہیے یا جہراً؟ اور ہاتھ اٹھا کر کرنا چاہیے یا ہاتھ اٹھائے بغیر؟ حال آں کہ اس بارے میں اکابر کے درجہ ذیل عبارات ہیں:

(1) أحسن الله أجرك وأحسن عزائك وغفرلمیتك". (رد المحتار، ج3ص138۔تبین الحقائق،ج1ص589۔النھرالفائق،ج1ص404)

 (2)مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے امداد المفتین  میں فرمایا ہے کہ تعزیت کی وقت میں ہاتھ اٹھانا صحابہ سے ثابت نہیں۔  (ص214)

(3)مفتی کفایت اللہ صاحبؒ نے اپنی کتاب کفایت المفتی جلد4ص127میں لکھا ہےکہ تعزیت جائزہےاور التزاماًفاتحہ پڑھنے کے لیے ثبوت نہیں۔

(4)مفتی رشید احمد صاحب نے اپنی کتاب احسن الفتاوی( ج 4 ص 245)میں لکھا ہے کہ تعزیت کے وقت دعا میں ہاتھ اٹھانا بدعت ہے۔

اس طرح فتاوی خیر المدارس (ج3ص217)میں ہے "باقی اعتراض کرنا کہ ہاتھ اٹھانا دعا  کے آداب میں سے ہےتو اس کا جواب مفتی محمد شفیع نے اپنی کتاب امداد المفتین(ص 214) میں دیا ہے کہ شارع  سے مختلف جگہوں میں منقول ہے کہ ہاتھ اٹھانا ہے،  کما فی فتح الباری( ج11ص171)لیکن تعزیت کاذکر نہیں ہے ،اس طرح میت کے لیے دعا کرنا نبی کریم ﷺسے ثابت ہے، لیکن تعزیت کے وقت نہیں اور اس طرح زیادہ دعاایسی ہے کہ شارع سے ہاتھ اٹھانا منقول نہیں ہے، جیسا کہ خوراک کے وقت دعا مسجد جانے کی دعا اور باہر آنے کی دعااس طرح قضائے حاجت کی دعا اور اس سے فراغت کی دعا ، باقی عمومات سے استدلال جائز نہیں( راہِ سنت 133)

جواب

تعزیت کا طریقہ یہ ہے کہ   میت کے ہاں جاکر اسے تسلی دی جائے، انہیں صبر کی ترغیب اور تلقین کی جائےاور  میت کے لیے دعا  ئے مغفرت کی جائے، ہاتھ اٹھانے یا اجتماعی ہیئت کو لازمی نہ سمجھا جائے، اسی طرح دعا کے موقع پر اونچی آواز سے تلاوت کرکے میت کے لیے ایصالِ ثواب کا التزام بھی ناجائز ہے۔

میت کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا حدیث سے ثابت ہے،  صحیح بخاری میں ہے کہ : نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے چچا ابو عامر کو اوطاس کی جانب بھیجے جانے والا لشکر کا امیر بنایا، جنگ میں وہ زخمی ہوئے، انہوں نے ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا کہ : نبی کریم ﷺ کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ میرے لیے دعائے مغفرت کریں، حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نہیں چچا کا واقعہ بتایا، نبی کریم ﷺ نے پانی منگوایا، وضو فرمایا اور ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ عبید ابو عامر کی مغفرت فرمادیجیے، حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اتنے بلند فرمائے کہ مجھے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دی، اس کے بعد آپ ﷺ نے مزید یہ دعا مانگی : اے اللہ ابو عامر کو قیامت والے دن اپنے بہت سے بندوں پر فوقیت اور فضیلت عطا فرما۔

سوال میں جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں التزام کے ساتھ تعزیت کے موقع پر ہاتھ اٹھانے کو منع کیا گیا ہے، ان کتب  کی متعلقہ عبارتوں کے سیاق و سباق سے یہی سمجھ میں آتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 241):

"وتكره بعدها إلا لغائب. وتكره التعزية ثانياً.

عن أبي موسى، رضي الله عنه، قال: لما فرغ النبي صلى الله عليه وسلم من حنين بعث أبا عامر على جيش إلى أوطاس ... قال: يا ابن أخي أقرئ النبي صلى الله عليه وسلم السلام و قل له: استغفر لي واستخلفني أبو عامر على الناس فمكث يسيراً، ثم مات فرجعت فدخلت على النبي صلى الله عليه وسلم في بيته على سرير مرمل، وعليه فراش قد أثر رمال السرير بظهره وجنبيه، فأخبرته بخبرنا وخبر أبي عامر، وقال: قل له: استغفر لي، فدعا بماء فتوضأ ثم رفع يديه، فقال: اللهم اغفر لعبيد أبي عامر، ورأيت بياض إبطيه، ثم قال: اللهم اجعله يوم القيامة فوق كثير من خلقك من الناس". (صحيح البخاري، كتاب المغازي، باب غزوة أوطاس 5 / 197 ط: دار الشعب) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں