بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تسبیح پر کیے جانے والے استخارے کی شرعی حیثیت


سوال

آج کل جوتسبیح پر استخارہ کرتے ہیں اور ہاں یا نا میں جواب دے دیتے ہیں اس کا کوئی ثبوت  ہے؟

جواب

’’استخارہ‘‘ کا لغوی معنیٰ ہے: خیر طلب کرنا، یعنی اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا۔ اور شریعت میں استخارہ ایک خاص اصطلاح ہے، جس کا طریقہ سنت سے ثابت ہے،  موجودہ دور میں رائج تسبیح پر کیا جانے والاعمل جسے استخارہ کہا جاتاہے، کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے, اسے ’’استخارہ‘‘ کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا؛ کیوں کہ استخارہ شرعی اصطلاح اور مسنون عمل ہے؛ بہرحال اس طرح کے عمل کو مسنون استخارہ سمجھ کر کرنا درست نہیں ہے۔  البتہ اگر یہ کسی بزرگ کے مجربات میں سے ہو تو اس حیثیت سے کرنے کی اجازت ہوگی۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے