بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کے نفع میں ورثا کا حصہ


سوال

میرے شوہر کی پہلی بیوی کے بیٹے محمد اقبال کا 2010 میں انتقال ہوا ہے، اس وقت میرے شوہر حیات  تھے، اقبال کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ اور کاروبار اس کی بیوہ کی تحویل میں ہے،  کیا اقبال کے انتقال کے بعد اس کے کاروبار میں ہونے والے نفع میں میرے شوہر کا حصہ ہوگا؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں  آپ کے شوہر بھی محمد اقبال  کے ورثاء  میں شامل ہیں اور محمد اقبال کی بیوہ بھی وارث ہیں، اور دیگر ورثاء  سمیت سب کا مرحوم کے ترکہ میں حصہ ہے۔ اب تک کاروبار سے جو نفع ہوا ہےوہ اگر کسی وارث نے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر حاصل کیا ہے تو اس کے لیے اپنے حصے سے زائد پاکیز ہ وحلال نہیں ہے۔مرحوم محمداقبال کے  ترکہ کی تقسیم کا طریقہ اور ہر  وارث کا حصہ معلوم کرنے کے لیے مرحوم کے انتقال کے وقت موجود تمام ورثاء  کی تفصیل درکار ہوگی۔  فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143902200010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں