بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ترکہ میں تمام ورثہ کو اپنے شرعی حصہ میں تصرف کا حق ہے


سوال

میرے والد صاحب کی ریٹائرمنٹ پر جو رقم وصول ہوئی ان کی بیماری کی وجہ سے وہ رقم میرے اور ا ن کے مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔ ان کی وفات کے بعد اس رقم سے مکان خریدا گیاجسے ہماری والدہ نے ہمارے ماموں کے مشورے سے اپنے نام لگوا لیا۔ ہم لوگ تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ میں شادی شدہ ہوں اور والد کی وفات کے بعد سے اسی گھر  کی ذمہ داری نبھا رہا ہوں، باقی سب شادی کے بعد سے اپنے گھر بار والے ہیں ۔ صرف سب سے چھوٹی بہن غیر شادی شدہ ہے اور اس کی عمر ۳۵ سال ہے ۔  والدہ بہن اور میں فیملی سمیت اس گھر میں رہتے ہیں ۔ والدہ کہتی ہیں میں اپنی مرضی سے حصہ دوں گی چاہے برابر دوں یا کسی ایک کو دوں ۔ والد صاحب کی کوئی اور جائیداد یا رقم اس کے علاوہ نہیں ہے۔ ان احوال میں شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب

والد مرحوم کے ترکہ میں تمام ورثا کا حق ہے،  بیوہ اپنے حصہ 8/ 1  یعنی 12.5 فیصد میں تصرف کا حق رکھتی ہیں، اس کے علاوہ میں دیگر ورثا کی رضامندی کے بغیر  تصرف کا حق نہیں۔ اس لیے والدہ کا یہ کہنا کہ میں اپنی مرضی سے حصہ دوں گی، درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200921

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں