بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تروایح میں نابالغ کو سامع بنانا


سوال

میرا بڑا بیٹاقران سنارہا ہے جب کہ چھوٹا جو گیارہ سالہ اور ستائیس پاروں  کا حافظ ہے، ان کے پیچھے مسجد میں کھڑے ہوکر لقمہ دے سکتا ہے کہ نہیں ؟  رات کو دوسرے صف سے اس نے لقمہ دیاتو پھر امام صاحب نے اسے آگے کردیا؟

جواب

نابالغ اور چھوٹے بچے کو تروایح میں اگلی صف میں کھڑا کرنا اور سامع بنانا جائز ہے، لہذا آپ کا چھوٹا بیٹا تراویح میں امام کا سامع بن سکتا ہے اور اس کے  لیے لقمہ دینا اور امام کے لیے اس کا لقمہ لینا دونوں درست ہیں۔

'' وفتح المراهق كالبالغ''۔ (الفتاوى الهندية (1/ 99) کتاب الصلاة، ط: سعید)

'' (قوله: ويصف الرجال ثم الصبيان ثم النساء) لقوله عليه الصلاة والسلام : «ليليني منكم أولو الأحلام والنهى» ۔۔۔۔  ولم أر صريحاً حكم ما إذا صلى ومعه رجل وصبي، وإن كان داخلاً تحت قوله والاثنان خلفه، وظاهر حديث أنس أنه يسوي بين الرجل والصبي ويكونان خلفه، فإنه قال: فصففت أنا واليتيم وراء ه والعجوز من ورائنا، ويقتضي أيضاً أن الصبي الواحد لا يكون منفرداً عن صف الرجال بل يدخل في صفهم وأن محل هذا الترتيب إنما هو عند حضور جمع من الرجال وجمع من الصبيان فحينئذ تؤخر الصبيان''.    (    البحر الرئق ، 1/ 374، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ط: دارالکتاب الاسلامی)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں