بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جمادى الاخرى 1441ھ- 29 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی نماز فاسد ہونے کی صورت میں وقت گزرنے کے بعد اعادہ کا حکم


سوال

اگر تراویح  کی دو رکعت کسی وجہ فاسد ہوگئی تھیں اور اس وقت پتا نہ چلا، بلکہ وقت گزر جانے کے بعد اس کا علم ہوا کہ وہ دو رکعت فاسد ہوئی تھیں.تو کیا اب وقت کے گزر جانے کے بعد تراویح کی ان دو رکعتوں کا اعادہ واجب ہوگا یا نہیں؟ 

جواب

بصورتِ مسئولہ تراویح کی فاسد شدہ دو رکعتوں کا وقت گزرنے کا بعد اعادہ  واجب نہیں ہے، اور وقت نکلنے کے بعد تراویح کی قضا کی نیت سے اعادہ کرنا مکروہ ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 117):
"وإذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره".
 فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144008202073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے