بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی نماز باجماعت پڑھنے کا حکم


سوال

تراویح سنت ہے، سنت کی جماعت کرا سکتے ہیں؟

جواب

سنت اور نفل  نماز سے  متعلق عام ضابطہ یہی ہے کہ  باقاعدہ  اس کی جماعت کروانا درست نہیں ہے، لیکن تراویح   کی نماز خود  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت سے ادا فرمائی اور جب صحابہ کو جماعت سے یہ نماز پڑھتے دیکھا تو اس پر نکیر نہیں فرمائی، نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں سب کو تراویح کی ایک جماعت کے تحت جمع کردیا تو اب تراویح کی نماز نہ صرف یہ کہ باجماعت پڑھنا مشروع ہے، بلکہ باجماعت ادا کرنا سنت ہے، یہ تراویح کی خصوصیت ہے ، اس کے علاوہ دیگر نوافل کا باقاعدہ جماعت سے پڑھنا ممنوع ہی رہے گا۔

صحيح البخاري (2/ 50)

'' عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى ذات ليلة في المسجد، فصلى بصلاته ناس، ثم صلى من القابلة، فكثر الناس، ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة، فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما أصبح قال: «قد رأيت الذي صنعتم ولم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن تفرض عليكم وذلك في رمضان»''۔

سنن البيهقي الكبرى (2/ 495)

'' عن ابی  العباس محمد بن يعقوب أنبأ بحر بن نصر قال: قرئ على عبد الله بن وهب أخبرك عبد الرحمن بن سلمان وبكر بن مضر عن بن الهاد أن ثعلبة بن أبي مالك القرظي حدثه قال: خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات ليلة في رمضان فرأى ناساً في ناحية المسجد يصلون، فقال: ما يصنع هؤلاء؟ قال قائل: يا رسول الله هؤلاء ناس ليس معهم قرآن وأبي بن كعب يقرأ وهم معه يصلون بصلاته، قال: قد أحسنوا أو قد أصابوا۔ ولم يكره ذلك لهم''۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 298)

'' ومنها أن الجماعة في التطوع ليست بسنة إلا في قيام رمضان''۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200229

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں