بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 جُمادى الأولى 1441ھ- 26 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی رکعتوں کی قضاء


سوال

ایک شخص کی تراویح میں چار رکعت رہ گئیں،  اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟ اور اس میں جو قرأت ہوئی ہے اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

تراویح کی جو رکعتیں جماعت کے ساتھ ادا ہونے سے رہ جائیں انہیں اسی دن ادا کیا جا سکتا ہے۔اس دن کے بعد تراویح کی رکعتوں کی کوئی قضانہیں ہے۔

ان رکعتوں کی جو قرأت رہ گئی ہے  وہ کسی حافظ سے کہہ کر تراویح کی رکعتوں میں سنی جا سکتی ہے، اس سے تراویح میں مکمل قرآن سننے کی  سنت ادا ہوجائے گی۔ رمضان المبارک گزرنے کے بعد اس کی قضا نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201387

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے