بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی جماعت میں عورتوں کا شریک ہونا


سوال

اگر  کوئی خاتون گھر میں تراویح ادا نہ کرتی ہو کسی بھی وجہ سے لیکن اگر مسجد یا کسی اور جگہ خواتین کے لئے تراویح  کا اہتمام ہو تو وہاں جا کر اہتمام سے تراویح ادا کرنا آسان لگتا ہو تو کیا خاتون جا سکتی ہے؟

جواب

بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے، قصداً تراویح چھوڑنا یا بیس رکعت سے کم ادا کرنا گناہ ہے؛ لہذا خواتین کو تراویح خوب اہتمام کے ساتھ ادا کرنی چاہیے، نیز خواتین کے لیے گھر میں ہی تراویح و دیگر فرض نمازیں اداکرنے کا حکم ہے ،عورتوں کا مسجد میں آنا مکروہ تحریمی ہے ، جیسا کہ ''الدر المختار مع رد المحتار'' میں ہے:

''ويكره حضورهن الجماعة ولو لجمعة و عيد و وعظ مطلقاً ولو عجوزاً ليلاً علي المفتی به لفساد الزمان''. ( كتاب الصلاة، باب الامامة ١/ ٥٦٦، ط: سعيد)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے