بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1441ھ- 03 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں تیز قرأت کرنے، ثناء چھوڑنے، رکوع و سجود کی تسبیحات تین سے کم پڑھنے اور مختصر درود و دعا پڑھنے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں تراویح بہت تیز پڑھنے کا رواج ہے، حفاظ بھی قرآن اتنے تیز پڑھتے ہیں کہ حروف غلط ہوجاتے ہیں.اگر کوئی حافظ قرآن صحیح پڑھتا ہے تو لوگ  نہیں  پڑھتے . اگر کوئی حافظ صحیح قراءت کے لیے  زیادہ  وقت بچانے کی خاطر "سبحانک اللّٰهم"  نہ پڑھے اور رکوع اور سجدے میں ایک مرتبہ تسبیح پڑھے .درودِ ابراھیمی کے بجائے کوئی اور مختصر درود پڑھے اور دعا بھی مختصر پڑھے .کیا مذکورہ امور سے کراہت  یا ثواب میں کمی تو  نہیں آئے گی؟

جواب

قرآنِ مجید اللہ جل شانہ کا مقدس کلام ہے، اس کے آداب بھی اتنے ہی عظیم ہیں، جس قدر خود یہ عظیم ہے، قرآنِ کریم میں ہی اسے ترتیل و تجوید کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے قراءت کے احکام و آداب امت کو سکھائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے امت تک پہنچائے ہیں، ان کی رعایت رکھتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا چاہیے، خواہ تراویح کی نماز ہو، لہٰذا  تراویح کی نماز کو جلدی ختم کرنے کے لیے قرآنِ مجید کو اس قدر تیز پڑھنا کہ الفاظ  و حروف کی ادائیگی مکمل نہ ہو، یا تیز رفتاری کی وجہ سے سامعین کو سمجھ نہ آتا ہو، شرعاً درست نہیں، اس طرح قرآنِ مجید پڑھنا ثواب کے بجائے گناہ  کا باعث ہے، اس لیے  ایسی جماعتِ تراویح میں شرکت نہیں کرنی چاہیے جو بجائے ثواب کے گناہ کا باعث ہو، اگر صاف پڑھنے والا نہ ملے تو’’ الم تر‘‘ سے پڑھناافضل ہے۔

 اس قدر تیز رفتاری سے پڑھنے والوں اور سامعین میں سے اس کی چاہت رکھنے والوں کی فہمائش اور اصلاح کی ضرورت ہے، ورنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق بن سکتے ہیں کہ ’’ بہت سے رات کو قیام کرنے والوں (تراویح پڑھنے والوں) کو رت جگائی کے سوا کچھ نہیں ملتا‘‘۔ اسی طرح اس ارشاد نبوی ﷺ کے مصداق بھی بن سکتے ہیں کہ ’’ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن ان پر لعنت کرتا ہے‘‘۔

 نمازِ  تراویح میں قرآنِ مجید اس انداز سے پڑھنا چاہیے کہ قرآنِ مجید کے الفاظ مکمل اور صاف ادا ہوں، نہ بہت تیز پڑھنا چاہیے کہ حروف کٹ جائیں اور نہ ہی بہت سست روی سے پڑھنا چاہیے کہ سننے والے تھکاوٹ کا شکار ہوجائیں،رکوع اور سجود اطمینان کے ساتھ کرنا چاہیے، (یعنی کم از کم تین مرتبہ تسبیح کہی جاسکے)اور یہ حکم ہر نماز کے لیے ہے، تراویح میں جلدی جلدی رکوع سجود کی اجازت نہیں، اور ثناء، تشہد ، درود شریف اور دعا بھی مکمل ادا ہونی چاہیے،  اگر  تراویح پڑھانے والے نے محض مقتدیوں کی رعایت اور خوشنودی کی خاطر ثنا پڑھنا چھوڑ دی یا رکوع و سجود کی تسبیحات تین سے کم بار پڑھی تو اس سے نماز میں کراہت بھی آئے گی اور ثواب بھی کم ہوجائے گا، اسی طرح بلا وجہ مسنون درودِ ابراہیمی کو چھوڑ کر کسی دوسرے مختصر درود شریف پر اکتفا بھی نہیں کرنا چاہیے۔

اس علاقہ کے لوگوں کو نماز کے اور تراویح کے فضائل سنا کر اس بات پر تیار کیا جائے کہ وہ لوگ سنت کے مطابق آرام و اطمینان سے تراویح پڑھنے پر راضی ہوجائیں۔ آخر رمضان المبارک میں  قیام اللیل کے فضائل اور اس کے بدلے ملنے والے انعامات اور بخشش کے وعدے کوئی معمولی ہیں!! ہمیں اتنا تو سوچنا چاہیے کہ اتنا قیمتی سودا کیا یوں سر سے بوجھ اتارنے سے حاصل ہوگا!!

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 46):

"(والختم) مرةً سنة ومرتين فضيلة وثلاثاً أفضل. (ولايترك) الختم (لكسل القوم) لكن في الاختيار: الأفضل في زماننا قدر ما لايثقل عليهم، وأقره المصنف وغيره. وفي المجتبى عن الإمام: لو قرأ ثلاثاً قصاراً أو آية طويلة في الفرض فقد أحسن ولم يسئ، فما ظنك بالتراويح؟ وفي فضائل رمضان للزاهدي: أفتى أبو الفضل الكرماني والوبري أنه إذا قرأ في التراويح الفاتحة وآية أو آيتين لايكره، ومن لم يكن عالماً بأهل زمانه فهو جاهل.

(ويأتي الإمام والقوم بالثناء في كل شفع، ويزيد) الإمام (على التشهد، إلا أن يمل القوم فيأتي بالصلوات) ويكتفي باللهم صل على محمد؛ لأنه الفرض عند الشافعي. 

(ويترك الدعوات) ويجتنب المنكرات هذرمة القراءة، وترك تعوذ وتسمية، وطمأنينة، وتسبيح، واستراحة.

 (قوله: الأفضل في زماننا إلخ) لأن تكثير الجمع أفضل من تطويل القراءة حلية عن المحيط. وفيه إشعار بأن هذا مبني على اختلاف الزمان، فقد تتغير الأحكام لاختلاف الزمان في كثير من المسائل على حسب المصالح، ولهذا قال في البحر: فالحاصل أن المصحح في المذهب أن الختم سنة لكن لايلزم منه عدم تركه إذا لزم منه تنفير القوم وتعطيل كثير من المساجد خصوصاً في زماننا فالظاهر اختيار الأخف على القوم.

(قوله: وفي المجتبى إلخ) عبارته على ما في البحر: والمتأخرون كانوا يفتون في زماننا بثلاث آيات قصار أو آية طويلة حتى لايمل القوم ولايلزم تعطيلها، فإن الحسن روى عن الإمام أنه إن قرأ في المكتوبة بعد الفاتحة ثلاث آيات فقد أحسن ولم يسئ، هذا في المكتوبة فما ظنك في غيرها؟ اهـ.

(قوله: وآية أو آيتين) أي بقدر ثلاث آيات قصار بدليل عبارة المجتبى، وإلا فلو دون ذلك كره تحريماً لما في المنية وشرحها في بحث صفة الصلاة: لو قرأ مع الفاتحة آية قصيرة أو آيتين قصيرتين لم يخرج عن حد كراهة التحريم، وإن قرأ ثلاثاً قصاراً أو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاث آيات قصاراً خرج عن حد الكراهة المذكورة ولكن لم يدخل في حد الاستحباب. وينبغي أن يكون فيه كراهة تنزيه إلخ أي لأن السنة قراءة المفصل، فقوله هنا لايكره أي لا تحريماً ولا تنزيهاً، وإن كره في الفرائض تنزيهاً فافهم. هذا، وفي التجنيس: واختار بعضهم سورة الإخلاص في كل ركعة، وبعضهم سورة الفيل: أي البداءة منها ثم يعيدها، وهذا أحسن لئلا يشتغل قلبه بعدد الركعات. قال في الحلية: وعلى هذا استقر عمل أئمة أكثر المساجد في ديارنا إلا أنهم يبدءون بقراءة سورة التكاثر في الأولى والإخلاص في الثانية، وهكذا إلى أن تكون قراءتهم في التاسعة عشر بسورة تبت وفي العشرين بالإخلاص اهـ زاد في البحر: وليس فيه كراهة في الشفع الأول من الترويحة الأخيرة بسبب الفصل بسورة واحدة لأنه خاص بالفرائض كما هو ظاهر الخلاصة وغيرها. اهـ.

قلت: لكن الأحوط قراءة النصر وتبت في الشفع الأول من الترويحة الأخيرة، والمعوذتين في الشفع الثاني منها، وبعض أئمة زماننا يقرأ بالعصر والإخلاص في الشفع الأول من كل ترويحة، وبالكوثر والإخلاص في الشفع الثاني.

(قوله ويزيد الإمام إلخ) أي بأن يأتي بالدعوات، بحر.

(قوله: ويكتفي باللهم صل على محمد) زاد في شرح المنية الصغير: وعلى آل محمد، وكأن الشارح اقتصر على الأول أخذاً من التعليل؛ لأن الصلاة على الآل لاتفرض عند الشافعي -رحمه الله تعالى -، بل تسن عنده في التشهد الأخير، وقيل: تجب عنده.

(قوله: هذرمة) بفتح الهاء وسكون الذال المعجمة وفتح الراء: سرعة الكلام والقراءة قاموس، وهو منصوب على البدلية من المنكرات، ويجوز القطع ح.

(قوله: واستراحة) هي القعدة بعد كل أربع، وقد مر أنها مندوبة، وبه يعلم أن المراد بالمنكرات مجموع  ما ذكر، إلا أن يراد بها ما يخالف المشروع".

الفتاوى الهندية (1/ 117):

"السنة في التراويح إنما هو الختم مرة فلا يترك لكسل القوم، كذا في الكافي. بخلاف ما بعد التشهد من الدعوات فإنه يتركها إذا علم أنه يثقل على القوم لكن ينبغي أن يأتي بالصلاة على النبي عليه السلام، هكذا في النهاية والختم مرتين فضيلة والختم ثلاث مرات أفضل، كذا في السراج الوهاج... روى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه يقرأ في كل ركعة عشر آيات ونحوها وهو الصحيح، كذا في التبيين. ويكره الإسراع في القراءة  وفي أداء الأركان، كذا في السراجية. وكلما رتل فهو حسن، كذا في فتاوى قاضي خان. والأفضل في زماننا أن يقرأ بما لايؤدي إلى تنفير القوم عن الجماعة لكسلهم؛ لأن تكثير الجمع أفضل من تطويل القراءة، كذا في محيط السرخسي. والمتأخرون كانوا يفتون في زماننا بثلاث آيات قصار أو آية طويلة حتى لايمل القوم ولايلزم تعطيل المساجد وهذا أحسن، كذا في الزاهدي".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201303

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں