بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں ایک رکعت کے بعد بیٹھنے سے سجدہ سہو کا حکم


سوال

اگر تراویح میں امام پہلی رکعت میں بھول کر بیٹھ جاۓ اور کچھ پڑھے بغیر کھڑا ہوجاۓ تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں? جب کہ جلسہ استراحت اس موقع پر ثابت ہے۔

جواب

اگر امام تراویح میں پہلی رکعت کے بعد بیٹھ گیا تو  اگر تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار بیٹھا ہے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، اس سے کم مقدار بیٹھا ہے تو اس میں سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ فقہ حنفی میں بلا عذر  جلسہ استراحت کرنا مکروہ ہے، اس لیے بہرحال اس کا ترک کرنا اولیٰ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 506):
" (ويكبر ويسجد) ثانية (مطمئناً ويكبر للنهوض) على صدور قدميه (بلا اعتماد وقعود) استراحة ولو فعل لا بأس".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 506):
"(قوله: بلا اعتماد إلخ) أي على الأرض قال في الكفاية: أشار به إلى خلاف الشافعي في موضعين: أحدهما يعتمد بيديه على ركبتيه عندنا وعنده على الأرض. والثاني الجلسة الخفيفة. قال شمس الأئمة الحلواني: الخلاف في الأفضل حتى لو فعل كما هو مذهبنا لا بأس به عند الشافعي، ولو فعل كما هو مذهبه لا بأس به عندنا كذا في المحيط. اهـ. قال في الحلية: والأشبه أنه سنة أو مستحب عند عدم العذر، فيكره فعله تنزيها لمن ليس به عذر. اهـ. وتبعه في البحر وإليه يشير قولهم لا بأس فإنه يغلب فيما تركه أولى.
أقول: ولا ينافي هذا ما قدمه الشارح في الواجبات حيث ذكر منها ترك قعود قبل ثانية ورابعة لأن ذاك محمول على القعود الطويل ولذا قيدت الجلسة هنا بالخفيفة، تأمل".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201079

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں