بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1441ھ- 05 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں امام کو لقمہ دینے کا طریقہ


سوال

اگر تراویح میں امام غلط  پڑھے تو سامع کو کب لقمہ دینا چاہیے؟

جواب

اگر امام سے قرآن پڑھنے میں بھول ہوجائے تو سامع  لقمہ دے سکتا ہے، لقمہ دیتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ امام مزید التباس میں نہ پڑ جائے، یعنی اگر امام صحیح طور پر پڑھنے کی کوشش کررہا ہو تو اولاً اس کو موقع دیا جائے، لقمہ دینے میں جلدی نہ کی جائے،  اگر امام پھر بھی نہ پڑھ سکے تو لقمہ دیا جائے؛ کیوں کہ مقتدی کے لیے لقمہ دینے کی اجازت ضرورۃً ہے، ورنہ مقتدی کا تلاوت کرنا خلافِ وضع ہے ۔   اور اگر سامع مقرر ہے تو وہ ہی غلطی بتائے، کوئی اور شخص جلدی نہ کرے۔ البتہ اگر سامع نہ بتاسکے اور امام آگے تلاوت بھی جاری نہ رکھ سکے تو پھر کوئی اور شخص جو نماز میں شریک ہو وہ بھی لقمہ دے سکتا ہے۔ 

اگر امام سے غلطی ہو اور سامع کے لقمہ نہ دے سکنے کی وجہ سے وہ تلاوت جاری رکھے اور غلطی کی وجہ سے معنی میں ایسا فساد نہ آئے جس کی وجہ سے نماز فاسد ہوتی ہو اور پھر اگلی رکعت یا بعد کی کسی رکعت میں وہ آیت تصحیح کرکے دُہرا لے تو تراویح میں ضرورۃً اس کی گنجائش ہے۔ البتہ اگر غلطی کی وجہ سے معنیٰ میں ایسا فساد آئے جس سے نماز فاسد ہوجائے تو سامع ورنہ مقتدیوں میں سے کسی حافظ کو چاہیے کہ وہ لقمہ دے دے، اگر ایسی غلطی کی تصحیح نماز میں نہیں کی گئی تو نماز فاسد ہوجائے گی۔

لقمہ کوئی ایک شخص دے اور اس طرح پڑھے کہ امام کو سمجھ میں آجائے۔  جو شخص نماز میں شریک نہ ہو  وہ لقمہ نہ دے، اگر اس نے لقمہ دے دیا اور امام نے قبول کرلیا تو نماز امام اور مقتدی سب کی فاسد ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200965

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں