بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تحریر سے پہلے 786 لکھنے کا حکم


سوال

کچھ لوگ تحریر شروع کرنے سے پہلے 786 لکھ لیتے ہیں، اس سے مراد بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ہے۔کیا پوری ﷽  لکھنی چاہیے یا پڑھ لینا کافی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ علم الاعداد کے اعتبار سے 786 بسم اللہ الرحمن الرحیم کا عدد ہے ، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

ب: 2

  س: 60

  م: 40

  ا: 1

  ل: 30

ل: 30

ہ: 5

ا: 1

ل: 30

ر: 200

ح: 8

م: 40

ن: 50

ا: 1

ل: 30

ر: 200

ح: 8

ی: 10

م: 40

پس ان تمام حروف کا عددی مجموعہ 786 بنتا ہے۔

رہی بات یہ کہ 786 لکھنا کیسا ہے ؟ اور اس کے لکھنے سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے اور پڑھنے کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟ تو اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ 786 نہ یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے اور نہ ہی اس کے قائم مقام یا بدل ہے، بلکہ یہ کاتب کی جانب سے  ایک علامت ہے کہ اس نے ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ہے؛ لہذا قاری بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لے، پس 786 کو عین بسم اللہ سمجھنا  یا اس کے قائم مقام قرار دینا درست نہیں ۔ اور  نہ ہی 786 لکھنے سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کا ثواب ملتا ہے ۔

البتہ علامت کے طور پر لکھنا درست ہے اور  قریبی سلفِ صالحین سے اس کا لکھنا ثابت بھی ہے، لہذا اسے غلط قرار دینا یا شرک و بدعت کا نام دینا بھی درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200982

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں