بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تجدید نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر


سوال

تجد یدِ نکاح کے کتنے عرصے تک رخصتی کرنی چاہیے؟ اور اگر تجدیدِ نکاح کے بعد رہائش نہ ہونے کی صورت میں کچھ عرصہ مطلب 1 یہ 2 ماہ جب تک مناسب رہائش نہ مل جائے تب تک بیوی اپنے گھر رہ سکتی ہے؟

جواب

اگر کسی وجہ سے نکاح کی تجدید کرنی پڑے تو  گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنے  سے مردو وزن میں دوبارہ میاں بیوی کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے،  اور نکاح کے بعد بغیر کسی عذر کے رخصتی میں تاخیر مناسب نہیں ہے، البتہ کوئی عذر ہو جیساکہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے تو اس حد تک تاخیر کی گنجائش ہے، اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

واضح رہے کہ تجدیدِ نکاح سے  دوبارہ نکاح اس وقت جائز ہوتا ہے جب اس کا اختیار بھی باقی ہو، مثلاً شوہر نے ایک یا دو بائن طلاقیں دی  ہوں، یا ایک یا دو طلاق کے بعد عدت گزرگئی ہو، لیکن  اگر شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں تو پھر محض تجدیدِ نکاح سے بیوی حلال نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200466

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے