بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جمادى الاخرى 1441ھ- 28 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

تجارت کی نیت سے لیے گئے پلاٹ پر زکاۃ کا حکم


سوال

  میں نے اپنے چند رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ایک پلاٹ خریدا ہے اور کچھ زائد پیسے بھی ہیں، جس سے پلاٹ کے اوپر گھر بنارہے ہیں، اور جب گھر بن جائے گا تو اسے بیچ کر منافع آپس میں تقسیم کریں گے۔ اس حوالے سے زکاۃ ادا کرنے کا حکم کیا ہوگا؟

جواب

تجارتی نیت سے لیے گئے پلاٹ کی زکاۃ ادا کرنالازم ہے، جس دن زکاۃ کا سال مکمل ہو اس دن اس پلاٹ اور تعمیر شدہ حصے کی مارکیٹ ویلیو کا ڈھائی فیصد ادا کرنالازم ہوگا،ہرشریک اپنے حصے کے بقدر زکاۃ ادا کرے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے