بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

حرام تجارت میں ایک لاکھ لگا کر ایک لاکھ صدقہ کردیے


سوال

ہم نے ایک لاکھ روپے کسی حرام تجارت میں لگایا، پھر اس سے ایک لاکھ روپے کمایا اور اسے صدقہ کردیا تو کیا وہ تجارت درست ہے اور اس کی کمائی درست ہے؟

جواب

حرام تجارت میں جب تک حرمت کی وجہ ختم نہ کی جائے، اس کی آمدنی حلال نہیں ہوگی؛ لہذا اپنی تجارت کی تفصیل کسی عالمِ دین کے سامنے رکھ کر اس سے راہ نمائی لیں۔  نیز اس سے جو نفع ہوا، اس سب کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا واجب ہے، اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200117

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں