بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تبلیغ کے آداب


سوال

مفتی اور مبلغ میں کیا فرق ہوتا ہے؟ مبلغ بننے کی شرائط کیا ہیں؟ مبلغ بنانے والی کتب ارشاد فرما دیں!

جواب

افتاء اور تبلیغ دونوں کا تعلق دین اور  شریعتِ محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، البتہ مبلغ کا کام اشاعتِ دین ہے جب کہ مفتی کی ذمہ داری  امت کو شرعی مسائل سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ دونوں میں تضاد نہیں ہے، یعنی ایک شخص مفتی اور مبلغ بھی ہوسکتاہے۔ البتہ مبلغ کے لیے اتنا درست علم ضروری ہے کہ وہ دوسری کی صحیح راہ نمائی کرسکے۔

جو شخص تبلیغ و دعوت کا ارادہ رکھتا ہو  اس کا چند صفات سے آراستہ ہونا ضروری ہے کہ مبلغ کی تبلیغ کے مؤثر ہونے کا تعلق ان صفات سے ہے  کیوں کہ ان صفات کا ذکر خود باری تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے ۔

  • لہذا جو شخص تبلیغ کرتا ہو اس کو چاہیے کہ مخلوق سے بے نیازی اختیار کرے اور مخلوق کی طرف سے کسی قسم  کے بدلے کی امید نہ رکھے اور استغنا کی صفت اپنائے۔
  • انبیاء علَیہِم الصّلاۃُ والسَّلامُ کے اصولِ دعوت اور بنیادی صفات میں بندگانِ الہی پر رحمت وشفقت اور خیر خواہی کاجذبہ ہے ؛ لہذا مبلغ بندگانِ خدا پر شفقت کرنے والا ہونا چاہیے اور  یہ بھی ضروری ہے کہ مخلوق کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ رکھنے والا ہو۔
  • مبلغ کی گفتگو میں نرمی، سنجیدگی، آہستگی اور دانش مندی کا ہونا ناگزیر ہےاور ہر بات حکمت پر مبنی ہونی چاہیے کہ گفتگو کے یہ آداب قرآن مجید میں سکھائے گئے ہیں۔
  • خلقِ خدا کی طرف سے آنے والی تکلیفوں اور اذیتوں پر صبر کرنے والا ہونا چاہیے۔
  • جن عقائد و اعمال کی تبلیغ کرے ان پر خود بھی عمل کرے۔
  •  تبلیغ کے اصول میں سے ایک اصول نفیر بھی ہے یعنی ضرورت پڑنے پر وطن کو چھوڑنا ؛ اس لیے اگر کبھی دین کے لیے ترکِ وطن کی ضرورت ہو تو اس سے پیچھے نہ ہٹے۔

            لہذا  جو شخص مبلغ  بننے کا ارادہ رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ درج بالا صفات کو اپنائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143905200039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے