بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تبلیغی جماعت کے صحابہ سے متعلق ایک جملہ پر اشکال


سوال

تبلیغی حضرات بیان‌کرتے  ہیں کہ صحابہ نے ایمان پر تیرہ (13) سال محنت کی، اس سے تو یہ معلوم ہوتاہے کہ صحابہ کرام کی وہ  اکثریت جنہوں نے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا انہوں نے یہ محنت نہیں کی۔ کیا ان کا یہ جملہ درست ہے؟

جواب

 تبلیغ سے وابستہ بزرگوں کی طرف سے اگر ایسی بات کی جاتی ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اسلام نے تربیت میں تدریج کا اصول اختیار کیا ہے کہ اولاً عقائد پر محنت کرکے نظریہ و ذہن سازی کی گئی اور جب اعمال پر چلنے کا ماحول بن گیا تو جتنے احکام نازل ہوئے ان سب پر چلنا آسان ہوگیا۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ اہلِ ایمان میں بتدریج اَحکامِ اسلام کی استعداد پیدا کرنے کی سعی کی طرف ترغیب دینا ہوتاہے،  نہ کہ یہ بیان کرنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر ہر صحابی پر تیرہ سال ایمان کی محنت کی تھی، اس کے بعد اسلام کے اَحکام پر عمل کروایا؛ لہٰذا آج بھی ہر شخص پر پہلے 13 سال ایمان کی محنت کی جائے، پھر دیگر احکام پر وہ عمل کرے گا۔  اس جملے سے یہ معنیٰ مراد لینا بداہۃً غلط ہے، کیوں کہ دینِ اسلام مکمل ہوچکاہے اور اسلام قبول کرتے ہی نومسلم پر وہ تمام احکام لاگو ہوجاتے ہیں جن کی شرائط اس وقت پائی جائیں، اور اس بات سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہے۔

اگر اس جملے کا وہ معنیٰ مراد لیا جائے، جو سائل نے سمجھا ہے تو اس پر اعتراض بھی ہوگا، جب کہ  دعوت  وتبلیغ کے کام سے وابستہ بزرگوں کے ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مطلب وہی ہوتاہے جو اوپر بیان کردیا گیا کہ ابتدائی زمانے (مکی دور) میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دیگر بہت سے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، بلکہ عمومی طور پر ایمانیات ہی نازل ہوئی تھیں تو رسول اللہ ﷺ اُسی پر محنت فرماتے رہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، اس وقت  اسلام کو نازل ہوئے ایک معتد بہ عرصہ گزر چکا تھا اور مسلمانوں میں اَحکام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو چکی تھی، مدنی زندگی میں دیگر احکام اور ان کی تفصیلات نازل ہوئیں تو ماحول قائم ہوجانے کی وجہ سے قدیم اور جدید سب مسلمانوں کے لیے دین پر چلنا آسان ہوگیا؛  کیوں کہ نومسلموں کے لیے بھی اِسلام اَب نیا مذہب نہ رہا تھا  اور  اِسلام کا تصور ان کے  ذہنوں نے قبول کر لیا تھا؛ اس لیے ان  پر براہِ  راست نازل شدہ احکامات لاگو ہو گئے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے