بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو الحجة 1441ھ- 03 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

تابوتِ سکینہ اور ہیکلِ سلیمانی کی معلومات


سوال

تابوتِ سکینہ اور ہیکلِ سلیمانی کے حوالے سے اسلام کے نقظہ نظر کے متعلق راہ نمائی فرما دیں۔ اور یہودیوں کے نزدیک اس کی اہمیت کیوں ہے؟ یہ بھی بتا دیں!

جواب

تفسیر حقانی میں ہے:سورہ بقرہ

’’اس کے بعد داؤد ( علیہ السلام) نے فلسطین اور گان اور مواب اور ارمن وغیرہ بہت سے ملک فتح کیے۔ مصر تک اور ادھر دمشق تک ملک کو وسعت دی اور ان کی حیات میں ان کے بیٹے ابشاوم نے ان پر بغاوت کی، مگر وہ ناکام رہا، انہوں نے اپنی حیات میں شہر یروشلم میں خدا تعالیٰ کے لیے مسجد یعنی بیت المقدس بنانے کی تیاری کی، مگر اتمام نہ ہوسکا۔ آخر ساٹھ برس کی عمر میں ٥٣٥ م میں وفات پائی اور ان کی جگہ ان کے بیٹے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) تخت نشین ہوئے اور سات برس تک اپنے باپ کی وصیت بموجب بیت المقدس کی تعمیر میں لاکھوں روپیہ صرف کرکے اس کو نہایت شان و شوکت سے تیار کیا۔ اس مسجد کا طول ٦٠ گز عرض ٢٠ گز اور بلندی ٣٠ گز تھی اور اسی کو اہلِ کتاب ہیکل کہتے ہیں‘‘۔ 

نیز  سورہ بنی اسرائیل میں ہے:

’’مسجد اس جگہ کا نام ہے جو وہ عمارات کے گر جانے یا بدل جانے سے نہیں بدلتی، گو وہ خاص ہیکل منہدم تھی، مگر اس کے آس پاس عیسائیوں نے مکانات تعمیر کر رکھے تھے جن کو خود عیسائی اور عوام ہیکل اور بیت المقدس ہی کہتے تھے‘‘۔

’’معارف القرآن‘‘ مٰیں مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’{اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ} بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا، اس میں برکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ انبیاء (علیہم السلام) کے، بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتا، جب جالوت بنی اسرائیل پر غالب آیا تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا، جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کیا کہ وہ کافر جہاں صندوق کو رکھتے وہیں وباء اور بلاء آتی، پانچ شہر ویران ہوگئے، ناچار ہو کردو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا، فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے، بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کردی اور موسم نہایت گرم تھا‘‘۔ 

نیز  سورہ سبا کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

’’بیت المقدس کی تعمیر جو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے شروع کی، پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تکمیل فرمائی، اس میں کچھ کام تعمیر کا باقی تھا، اور یہ تعمیر کا کام جنات کے سپرد تھا جن کی طبیعت میں سرکشی غالب تھی، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خوف سے کام کرتے تھے، ان کی وفات کا جنات کو علم ہوجائے تو فوراً کام چھوڑ بیٹھیں، اور تعمیر رہ جائے، اس کا انتظام حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے باذنِ ربانی یہ کیا کہ جب موت کا وقت آیا تو موت کی تیاری کر کے اپنے محراب میں داخل ہوگئے، جو شفاف شیشے سے بنی ہوئی تھی، باہر سے اندر کی سب چیزیں نظر آتی تھیں، اور اپنے معمول کے مطابق عبادت کے لیے ایک سہارا لے کر کھڑے ہوگئے کہ روح پرواز کرنے کے بعد بھی جسم اس عصا کے سہارے اپنی جگہ جما رہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کی روح وقتِ مقرر پر قبض کرلی گئی، مگر وہ اپنے عصا کے سہارے اپنی جگہ جمے ہوئے باہر سے ایسے نظر آتے تھے کہ عبادت میں مشغول ہیں، جنات کی یہ مجال نہ تھی کہ پاس آ کر دیکھ سکتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زندہ سمجھ کر کام میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سال بھر گزر گیا، اور تعمیرِ بیت المقدس کا بقیہ کام پورا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے گھن کے کیڑے کو جس کو فارسی میں ’’دیوک‘‘ اور اردو میں ’’دیمک‘‘ کہا جاتا ہے، اور قرآن کریم نے اس کو  "دابة الأرض"  کے نام سے موسوم کیا ہے، عصائے سلیمانی پر مسلط کردیا۔ دیمک نے عصاء کی لکڑی کو اندر سے کھا کر کم زور  کردیا، عصاء کا سہارا ختم ہوا تو سلیمان (علیہ السلام) گر گئے، اس وقت جنات کو ان کی موت کی خبر ہوئی‘‘۔

تفسير القرطبي (3/ 247):
’’(وَقالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ) إِتْيَانُ التَّابُوتِ، وَالتَّابُوتُ كَانَ مِنْ شَأْنِهِ فِيمَا ذُكِرَ أَنَّهُ أَنْزَلَهُ اللَّهُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَكَانَ عِنْدَهُ إِلَى أَنْ وَصَلَ إِلَى يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَكَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يَغْلِبُونَ بِهِ مَنْ قَاتَلَهُمْ حَتَّى عَصَوْا فَغُلِبُوا عَلَى التَّابُوتِ غَلَبَهُمْ عَلَيْهِ الْعَمَالِقَةُ: جَالُوتُ وَأَصْحَابُهُ فِي قَوْلِ السُّدِّيِّ، وَسَلَبُوا التَّابُوتَ مِنْهُمْ. قُلْتُ: وَهَذَا أَدَلُّ دَلِيلٍ عَلَى أَنَّ الْعِصْيَانَ سَبَبُ الْخِذْلَانِ، وَهَذَا بَيِّنٌ. قَالَ النَّحَّاسُ: وَالْآيَةُ فِي التَّابُوتِ عَلَى مَا رُوِيَ أَنَّهُ كَانَ يُسْمَعُ فِيهِ أَنِينٌ، فَإِذَا سَمِعُوا ذَلِكَ سَارُوا لِحَرْبِهِمْ، وَإِذَا هَدَأَ الْأَنِينُ لَمْ يَسِيرُوا وَلَمْ يَسِرِ التَّابُوتُ. وَقِيلَ: كَانُوا يَضَعُونَهُ فِي مَأْزِقِ الْحَرْبِ فَلَاتَزَالُ تَغْلِبُ حَتَّى عَصَوْا فَغُلِبُوا وَأُخِذَ مِنْهُمُ التَّابُوتُ وَذَلَّ أَمْرُهُمْ، فَلَمَّا رَأَوْا آيَةَ الِاصْطِلَامِ وَذَهَابِ الذِّكْرِ، أَنِفَ بَعْضُهُمْ وَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِهِمْ حَتَّى اجْتَمَعَ مَلَؤُهُمْ أَنْ قَالُوا لِنَبِيِّ الْوَقْتِ: ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا، فَلَمَّا قَالَ لَهُمْ: مَلِكُكُمْ طَالُوتُ رَاجَعُوهُ فِيهِ كَمَا أَخْبَرَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَلَمَّا قَطَعَهُمْ بِالْحُجَّةِ سَأَلُوهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى ذَلِكَ، فِي قَوْلِ الطَّبَرِيِّ. فَلَمَّا سَأَلُوا نَبِيَّهُمُ الْبَيِّنَةَ عَلَى مَا قَالَ، دَعَا رَبَّهُ فَنَزَلَ بِالْقَوْمِ الَّذِينَ أَخَذُوا التَّابُوتَ دَاءٌ بِسَبَبِهِ، عَلَى خِلَافٍ فِي ذَلِكَ. قِيلَ: وَضَعُوهُ فِي كَنِيسَةٍ لَهُمْ فِيهَا أَصْنَامٌ فَكَانَتِ الْأَصْنَامُ تُصْبِحُ مَنْكُوسَةً. وَقِيلَ: وَضَعُوهُ فِي بَيْتِ أَصْنَامِهِمْ تَحْتَ الصَّنَمِ الْكَبِيرِ فَأَصْبَحُوا وَهُوَ فَوْقُ الصَّنَمِ، فَأَخَذُوهُ وَشَدُّوهُ إِلَى رِجْلَيْهِ فَأَصْبَحُوا وَقَدْ قُطِعَتْ يَدَا الصَّنَمِ وَرِجْلَاهُ وَأُلْقِيَتْ تَحْتَ التَّابُوتِ، فَأَخَذُوهُ وَجَعَلُوهُ فِي قَرْيَةِ قَوْمٍ فَأَصَابَ أُولَئِكَ الْقَوْمَ أَوْجَاعٌ فِي أَعْنَاقِهِمْ. وَقِيلَ: جَعَلُوهُ فِي مَخْرَأَةِ قَوْمٍ فَكَانُوا يُصِيبُهُمُ الْبَاسُورُ، فَلَمَّا عَظُمَ بَلَاؤُهُمْ كَيْفَمَا كَانَ، قَالُوا: مَا هَذَا إِلَّا لِهَذَا التَّابُوتِ! فَلْنَرُدَّهُ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَوَضَعُوهُ عَلَى عَجَلَةٍ بَيْنَ ثَوْرَيْنِ وَأَرْسَلُوهُمَا فِي الْأَرْضِ نَحْوَ بِلَادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَبَعَثَ اللَّهُ مَلَائِكَةً تَسُوقُ الْبَقَرَتَيْنِ حَتَّى دخلنا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَهُمْ فِي أَمْرِ طَالُوتَ فَأَيْقَنُوا بِالنَّصْرِ، وَهَذَا هُوَ حَمْلُ الْمَلَائِكَةِ لِلتَّابُوتِ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ. وَرُوِيَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ جَاءَتْ بِهِ تَحْمِلُهُ وَكَانَ يُوشَعُ بْنُ نُونَ قَدْ جَعَلَهُ فِي الْبَرِّيَّةِ، فَرُوِيَ أَنَّهُمْ رَأَوُا التَّابُوتَ فِي الْهَوَاءِ حَتَّى نَزَلَ بَيْنَهُمْ، قَالَهُ الرَّبِيعُ بْنُ خَيْثَمٍ. وَقَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: كَانَ قَدْرُ التَّابُوتِ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ فِي ذِرَاعَيْنِ. الْكَلْبِيُّ: وَكَانَ مِنْ عُودِ شِمْسَارٍ الَّذِي يُتَّخَذُ مِنْهُ الْأَمْشَاطُ. وَقَرَأَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ" التَّابُوهُ" وَهِيَ لُغَتُهُ، وَالنَّاسُ عَلَى قِرَاءَتِهِ بِالتَّاءِ وَقَدْ تَقَدَّمَ. وَرُوِيَ عَنْهُ" التَّيْبُوتُ" ذَكَرَهُ النَّحَّاسُ. وَقَرَأَ حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ" يَحْمِلُهُ" بِالْيَاءِ‘‘.

مذکورہ حوالوں سے معلوم ہوتاہے کہ تابوتِ سکینہ حضرت آدم علیہ السلام کا صندوق تھا، آپ علیہ السلام کے بعد نسل در نسل چلتے چلتے حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا، پھر بنی اسرائیل کے انبیاء میں چلتا رہا، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے بعد ان کے اور دیگر انبیاء کے تبرکات اس میں موجود تھے، بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتے تھے، جب بنی اسرائیل نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے قومِ عمالقہ (جالوت اور اس کی قوم) کو ان پر مسلط کیا، انہوں نے بنی اسرائیل اور ان کے شہروں کو تاراج کیا، انہیں علاقہ بدر بھی کیا، ان کی اولادوں کو قتل و گرفتار بھی کیا اور تابوت بھی لے گئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے جالوت اور اس کی قوم کو تابوت کی وجہ سے مختلف آزمائشوں میں گرفتار کیا، انہوں نے تابوت کو بیل گاڑی پر رکھ کر بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف ہنکا دیا، اس پورے عمل میں فرشتے پسِ پردہ مختلف امور انجام دیتے رہے اس وجہ سے سورہ بقرہ میں اللہ پاک نے فرمایا کہ فرشتے اسے اٹھالائیں گے،  یا پھر براہِ راست فرشتے اٹھاکر لائے، اور تابوت کا لوٹنا اللہ کے نیک بندے طالوت کی بادشاہت کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ٹھہری۔ چناں چہ بنی اسرائیل طالوت کی قیادت میں عمالقہ سے لڑے اور حضرت داؤد علیہ السلام جو طالوت کے لشکر میں شامل تھے اور ابھی تک نبوت سے سرفراز نہیں ہوئے تھے، انہوں نے بہت بہادری سے کفار کا مقابلہ کیا اور جالوت (کافر بادشاہ) کو قتل کردیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت، حکمت اور نبوت عطا فرمائی اور جو چاہا علم دیا۔ 

حضرت داؤد علیہ السلام نے نبوت اور بادشاہت ملنے کے بعد  اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک عظیم الشان عبادت گاہ (مسجد) تعمیر کرانا شروع کی، اسی تعمیر کو ’’ہیکل سلیمانی‘‘ کہا جاتاہے، جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے والد کی وصیت کے مطابق نہایت اہتمام اور شان سے مکمل کروایا، یہاں تک کہ اس کی تعمیر میں اِتقان و اِستحکام کے لیے جنات سے بھی خدمت لی۔ چوں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس مسجدِ بیت المقدس کی تکمیل کی اور نمایاں وعظیم الشان تعمیرات آپ علیہ السلام نے کروائیں اس لیے اسے ہیکلِ سلیمانی کہا جاتاہے۔ معلوم ہواکہ ہیکلِ سلیمانی سے مراد وہی مسجدِ بیت المقدس ہے جس کی تعمیر کا ذکر قرآنِ مجید نے بھی کیا ہے، اور جو آج تک موجود ہے، جہاں سے رسول اللہ ﷺ کو معراج کے موقع پر آسمانوں کے سفر کے لیے لے جایا گیا۔ اس کے علاوہ مزید کوئی خاص وضع کی تعمیر مراد نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے ’’قصص القرآن‘‘ (چار جلدیں)  از مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی رحمہ اللہ،   میں متعلقہ مباحث دیکھ لیجیے۔

یہودیوں کے ہاں بھی اہمیت اسی لحاظ سے ہے کہ وہ بھی ان انبیاء کے ماننے والے ہیں؛ لہذا یہ مقدسات ہیں، جن پر قبضہ کرنے کا وہ خواب دیکتھے ہیں۔ تاہم یہود بے بہبود نے اپنی عادت کے مطابق (کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اَحکام میں تبدیلی و تحریف کی) یہاں بھی کچھ من گھڑت نظریات اور باتیں پھیلا دی ہیں، جن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے، ان کی حیثیت توہمات اور شیطانی دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ حقیقت وہی ہے جس کی نشان دہی قرآنِ مجید نے کردی ہے، اور سابقہ سطور میں مذکور ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں