بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کی رضاعی ماں سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

 آدمی اپنی بیوی کے انتقال کے بعد اپنی سالی سے جس کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہو،  عدت کے بعد نکاح کرسکتا ہے، جب کہ وہ سالی اس کے حقیقی بیٹے کی مرضعہ ہو (یعنی اس شخص کے بیٹے نے اپنی خالہ کادودھ پیا ہو)؟

جواب

جی ہاں! مذکورہ شخص اپنی بیوی کے انتقال کے بعد اپنی سالی سے (اس کے سابقہ شوہر سے عدت گزرنے کے بعد) نکاح کر سکتا ہے؛ اس لیے کہ مذکورہ بچے کے دودھ پینے کی وجہ سے اس کے باپ کا بچے  کی رضاعی ماں سے کوئی رضاعی تعلق نہیں ہوا؛  لہذا دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں اور نکاح جائز ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200385

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے