بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کے لیے خریدے ہوئے سونے کی زکاۃ کا حکم


سوال

اگر کسی  شخص نے اپنی بیٹی کے لے سونا رکھا ہے، جس کی مالیت ٧ تولے سے کم ہے، کیا اس کی زکات ادا کرنی پڑے گی؟

جواب

اگر کسی نے اپنی بیٹی کےلیے سونا لے کر رکھا ہوا ہے اور وہ سات تولے سے کم ہے تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

1۔ وہ سونا اس نے اپنی بیٹی کے حوالہ کر دیا ہو گا۔

2۔ وہ سونا اس نے اب تک اپنی بیٹی کے حوالہ نہیں کیا ہو گا۔

اگر اس نے وہ سونا اب تک اپنی بیٹی کو نہیں دیا تو وہ خود اس کا مالک ہے اور اگر وہ خود پہلے سے نصاب کامالک ہے، (یعنی اگر اس کے پاس سونا ہے تو ساڑھے سات تولہ کے مالک ہونے سے وہ صاحبِ نصاب بن جائے گا،اگر   اس کے پاس چاندی ہے تو ساڑھے باون تولہ چاندی کا مالک ہونے سے وہ صاحبِ نصاب بن جائے گا  ، کیش اور مالِ تجارت کا نصاب بھی آج کل چاندی کے حساب سے ہی لگایا جائے گا، اور اگر ان میں سے دو یا زائد جنسوں کا مالک ہو اور  اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی تک پہنچ جائے  تو نصاب کا مالک شمار ہو گا) تو دوسرے مال کے ساتھ  مذکورہ سونے کی بھی زکاۃ ادا کرے گا، اور اگر پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہے، لیکن اس سونے  کو دیگر مال کے ساتھ ملانے سے صاحبِ نصاب بن گیا  تو جس دن نصاب مکمل ہوا ہے اس دن سے سال شروع ہو گا اور سال پورا ہونے پر  اس پر زکاۃ لازم ہو گی، اور اگر اس کے پاس اس سونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، نہ سونا، نہ چاندی، نہ کیش، نہ مالِ تجارت تو ایسی صورت  میں سونے کا نصاب مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اوپر زکاۃ لازم نہ ہو گی۔

اور اگر اس نے وہ سونا اپنی بیٹی کے حوالہ کر دیا تو بیٹی اس کی مالک ہے، پھر  اگر بیٹی  بالغ ہے اور پہلے سے صاحبِ نصاب  بھی ہے تو دیگر مال کے ساتھ اس کی بھی زکاۃ ادا کرے گی،  اگر پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہے، لیکن اس سونے  کو دیگر مال کے ساتھ ملانے سے صاحبِ نصاب بن گئی   تو جس دن نصاب مکمل ہوا ہے اس دن سے سال شروع ہو گا اور سال پورا ہونے پر  اس کی زکاۃ لازم ہو گی، اور اگر اس کے پاس اس سونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، نہ سونا، نہ چاندی، نہ کیش، نہ مالِ تجارت تو ایسی صورت  میں سونے کا نصاب مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اوپر زکاۃ لازم نہ ہو گی۔

اور اگر بیٹی نابالغ ہے اور اس شخص نے سونا اس کی ملکیت میں دے دیا ہے، (ملکیت میں دینے کا مطلب یہ ہے کہ خود رقم کی ضرورت بھی ہو تب بھی وہ اس سونے میں تصرف نہ کرے) تو نابالغ بچی پر سونے کی زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے