بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیٹی نے باپ کی شرم گاہ کو شہوت کے ساتھ دیکھا یا نہیں، شک ہوتو حرمتِ مصاہرت کا حکم/ حرمتِ مصاہرت شرم گاہ کے کس حصہ کو دیکھنے سے ثابت ہوتی ہے؟


سوال

اگر بیٹی باپ کا فرج دیکھے اب معلوم نہیں کہ اس نے شہوت سے دیکھا باپ کو شک ہے تو کیا حرمتِ مصاہرت واقع ہوتی ہے؟ اور حرمتِ مصاہرت کےلیےفرج کو پورا دیکھنا ضروری ہے یا اگر شلوار کے اندر سے ایک سائیڈدیکھنا بھی کافی ہے؟

جواب

 بیٹی کے شہوت کے ساتھ اپنے والد کی شرم گاہ کو بلاحائل دیکھنے  سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، البتہ صرف شہوت کا شک ہونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، بلکہ موقع محل، قرائن اور حالات کو دیکھ کر یا کسی اور ذریعے سے اگر والد کو یقین آجائے کہ بیٹی نے شہوت کے ساتھ دیکھا ہے اور باپ اس بات کی تصدیق کردے تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کی وجہ سے والد پر اپنی بیوی (یعنی اس بیٹی کی ماں) ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی، لیکن اگر والد کو شہوت کا یقین یا غالب گمان نہ ہو، بلکہ غلطی سے نظر پڑنے کا غالب گمان ہو اور وہ شہوت کی تصدیق نہ کرے تو پھر حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔ کسی قریبی مستند دار الافتاء میں جاکر مفتی صاحب کو سارا واقعہ بتاکر حکم معلوم کرلینا چاہیے۔

سوال کا آخری حصہ کچھ مبہم ہے،  بہرحال مرد کی شرم گاہ کے کسی بھی حصہ کو بلا حائل دیکھنے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی، لیکن اگر درمیان میں شلوار یا کپڑا حائل ہو تو کپڑے کے اوپر سے شرم گاہ کی وضع دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 33):

"وناظرة إلى ذكره  .... والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى، وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته.

(قوله: وناظرة) أي بشهوة ... (قوله: وفي امرأة ونحو شيخ إلخ) قال في الفتح: ثم هذا الحد في حق الشاب، أما الشيخ والعنين فحدهما تحرك قلبه أو زيادته إن كان متحركاً لا مجرد ميلان النفس، فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلاً كالشيخ الفاني، ثم قال: ولم يحدوا الحد المحرم منها أي من المرأة، وأقله تحرك القلب على وجه يشوش الخاطر قال ط: ولم أر حكم الخنثى المشكل في الشهوة، ومقتضى معاملته بالأضر أن يجري عليه حكم المرأة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 37):

"(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي.

(قوله: وإن ادعت الشهوة في تقبيله) أي ادعت الزوجة أنه قبل أحد أصولها أو فروعها بشهوة أو أن أحد أصولها أو فروعها قبله بشهوة، فهو مصدر مضاف إلى فاعله أو مفعوله وكذا قوله: أو تقبيلها ابنه، فإن كانت إضافته إلى المفعول فابنه فاعل والأنسب لنظم الكلام إضافة الأول لفاعله والثاني لمفعوله ليكون فاعل يقوم الرجل أو ابنه كما أفاده ح (قوله: فهو مضاف)؛ لأنه ينكر ثبوت الحرمة والقول للمنكر، وهذا ذكره في الذخيرة في المس لا في التقبيل كما فعل الشارح فإنه مخالف لما مشى عليه المصنف أو لا من أنه في التقبيل يفتى بالحرمة ما لم يظهر عدم الشهوة، وقدمنا عن الذخيرة نقل الخلاف في ذلك فما هنا مبني على ما في بيوع العيون".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201450

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے