بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ہمارا آپ کا کوئی رشتہ نہیں کے جواب میں شوہر کا ٹھیک ہے کہنا


سوال

ہماری ایک جاننے والی ہیں، ان کے شوہر نشہ کرتے ہیں،  بہت منع کرنے کے بعد ان کے شوہر نے نشہ چھوڑ دیا تو ان کی بیوی نے ان سے قرآن پر ہاتھ  رکھ  کر کہا کہ آج کے بعد نہیں پیوں گا. تو بیوی نے کہا: اگر پیا تو ہمارا (یعنی بیوی اور بچی) کوئی رشتہ نہیں، اور شوہر نے کہا کہ ٹھیک ہے، اس دوران شوہر کا ہاتھ قرآن پر تھا یا نہیں یہ ان کی بیوی نے نوٹ نہیں کیا،  برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے "ٹھیک ہے" بولتے ہوئے طلاق کی نیت کی تھی تو ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد جب بھی نشہ کرےگا تو اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اور پھر دوبارہ ساتھ  رہنے کے لیے تجدیدِ نکاح ضروری ہوگا۔

اور اگر شوہر نے "ٹھیک ہے" بولتے ہوئے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تاہم آئندہ ایسے سخت الفاظ کے استعمال سے میاں بیوی، دونوں کو ہی احتیاط کرنی چاہیے۔

الفتاوى الهندية (1 / 375):

"ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى، ولو قالت المرأة لزوجها: لست لي بزوج، فقال الزوج: "صدقت"، ونوى به الطلاق يقع في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في فتاوى قاضي خان".

فتاوی محمودیہ میں ہے :

’’اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے ایسا کہا ہے کہ "میرا تیرا کوئی رشتہ نہیں، تیری مرضی آئے سو کر" تو اس سے طلاق بائنہ واقع ہوگئی‘‘۔ (۱۲ / ۵۵۰، دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200291

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں