بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے ساتھ حالتِ حیض میں وطی کرنا


سوال

بیوی کے ساتھ حالتِ حیض میں وطی کرنے کا حکم اور نقصانات بتائیے!

جواب

حیض والی عورت جب تک اچھی طرح پاک نہ ہو جائے، قرآن وحدیث میں اُس وقت تک اس سے صحبت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

{وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلاَ تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَo}

ترجمہ: ’’اور آپ سے حیض (ایامِ ماہواری) کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں وہ نجاست ہے، سو تم حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کش رہا کرو، اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جایا کرو، اور جب وہ خوب پاک ہو جائیں تو جس راستے سے ﷲ نے تمہیں اجازت دی ہے ان کے پاس جایا کرو، بے شک  ﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ [البقرۃ:  222]

"عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ أَتَی حَائِضًا أَوْ امْرَاَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ کَاهِنًا فَصَدَّقَهُ فَقَدْ بَرِیَ مِمَّا أَنْزَلَ اﷲُ عَلَی مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ".

ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے حیض والی عورت سے قربت کی یا عورت کی دُبرمیں دخول کیا یا کاہن (غیب دانی کے دعوے دار) کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی (یعنی سچا یقین کیا) تو وہ اس تعلیم سے بری (لاتعلق) ہوگیا جو  ﷲ تعالیٰ نے محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہے۔‘‘ (ابی داؤد، السنن، 4: 15، رقم: 3904)

لہٰذا حیض کے دوران وطی کرنا یا ناف سے لے کر گھٹنوں کے درمیان بغیر حائل کے ہم بستر ہونا ناجائز اور گناہ ہے، اگر کسی نے لاعلمی میں کرلیا تو اسے چاہیے کہ توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ہوسکے تو استطاعت کے مطابق صدقہ دے دے، استطاعت ہو تو ایک دینار (4.374  گرام سونے کا سکہ) یا آدھا دینار (یا اس کی قیمت) صدقہ کریں۔ 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جوشخص بھی حائضہ عورت سے ہم بستری کرلے وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے ‘‘.

اور اگر حاجت زیادہ ہو تو ناف سے گھٹنے کے درمیان (اتنے موٹے) کپڑے پہنے ہوئے (جن سے جسم کی حرارت محسوس نہ ہو) بغیر دخول کے تسکینِ شہوت کی گنجائش ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 298):
"(قوله: ويندب إلخ)؛ لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعاً «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار»، ثم قيل: إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل: بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه: «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دماً أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»". (فتاویٰ هندیه،الفصل الرابع في أحکام الحیض والنفاس ،2/57)

 

نیز اس حالت میں وطی کرنا گندگی اور بیماری کے پھیلنے، اور عورت کے رحم کے کم زور ہونے کا باعث ہے۔اس کے طبی نقصانات کی تفصیل کے لیے کسی  طبیب سے راہ نمائی لیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے