بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو’’جاؤ گھر یا تو میں تیرے والد کو بولوں گا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ گھر‘‘ کہنے کا حکم


سوال

میری  بیوی سے کبھی کبھی لڑائی ہوتی ہے اور پھر جب میں غصہ میں ہوتا ہوں تو بیوی کو ڈرانے یا دھمکانے کے لیے بیوی کو کہتا ہوں: "جاؤ گھر یا تو میں تیرے والد  کو بولوں گا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ گھر، مجھ سے تنگ ہے، روز مجھے بھی بے زار  کیا".

میری  نیت میں طلاق کا ارادہ نہیں، بلکہ بیوی کو ڈرانے کے لیے ایسا کہا. اس کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

طلاق کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو ڈرانے کے لیے مذکورہ جملہ ’’جاؤ  گھر یا تو میں تیرے والد کو بولوں گا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ گھر‘‘ بولنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201930

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے