بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ماں رکھوں کہنے کا حکم


سوال

اگر ایک دوست نے دوسرے سے کہا:  اگر میں نے تم سے بات کی تو میں اپنی بیوی کو ماں رکھوں۔  اب مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ کیا یہ ظہار ہے؟  یا اگر طلاق ہے تو کون سی؟

جواب

’’بیوی کو ماں رکھوں‘‘  کہنے سے کوئی طلاق یا ظہار میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 470):
"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي)، أو كأمي، وكذا لو حذف علي، خانية (براً، أو ظهاراً، أو طلاقاً صحت نيته) ووقع ما نواه؛ لأنه كناية (وإلا) ينو شيئاً، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201788

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں