بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ماسی ( خالہ) کہنا


سوال

میاں،  بیوی گھر کے کام میں مصروف تھےکہ شوہر نے  بیوی کو کہا: ’’ماسی ( یعنی خالہ) آگے ہو‘‘.  مطلب کام میں شامل ہو، جب کہ ایسا کہنا کسی غصہ یا کسی اور ظہار وغیرہ کی نیت سے نہ تھا۔تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کفارہ اگر لازم ہے تو کفارہ کیا ہو گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں دونوں کے درمیان نکاح بدستور قائم ہے، مذکورہ الفاظ  کہنے کی وجہ سے  نہ طلاق ہوئی اور نہ ہی ظہار۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے