بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو طمانچہ مارنا


سوال

کسی بھی بحث مباحثہ میں غصہ میں آکر بیوی کو طمانچہ مارنا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، اسی طرح اعضاء میں سے چہرے کو مجمع المحاسن بنایا ہے، چہرہ چاہے انسا ن کا ہو یا حیوان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مارنے اور اس کو داغنے سے منع فرمایا ہے،لہذاغصہ میں  بھی بیوی کے چہرے پر طمانچہ مارنا جائز نہٰیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143802200007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں