بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو طلاق کی نیت سے بہن جیسی کہنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص بیوی سے یہ کہے  کہ ’’آپ مجھ پر بہن جیسی ہیں‘‘ اور ساتھ ہی بیوی کو چھوڑنے کا ارادہ بھی ہو تو کیا طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب

بیوی کو طلاق کی نیت سے یہ کہنا کہ ’’آپ مجھ پر بہن جیسی ہیں‘‘  اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے،  نکاح ختم ہوجاتا ہے،  آئندہ ساتھ رہنے کے لیے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ تجدیدِ نکاح کی صورت میں دو طلاق کا اختیار ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’ولو قال لها: أنت علي مثل أمي أوكأمي ينوي، فإن نوى الطلاق وقع بائناً، وإن نوی الكرامة أو الظهارفكمانوی، هكذا في فتح القدير. و إن لم تكن له نية فعلی قول أبي حنيفة رحمه الله تعالي لايلزمه شيء حملاً للفظ علی معنی الكرامة، كذا في الجامع الصغير‘‘. ( ١/ ٥٠٧، ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے