بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا علیحدہ کھانا کھانا


سوال

اگر اہلیہ کی خواہش  ہو کہ کھانا اس کے ساتھ کھایا جائے جب کہ بزرگ والدین موجود ہوں والدین  کی خواہش ہے کہ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھایا جائے، میں نے اہلیہ کو اختیار دیا کہ میں آپ پرکوئی زبردستی نہیں کرتا جب جہاں آپ کا دل کرے آپ کھانا کھائیں ناشتہ کریں چاہو تو میرے والدین کے ساتھ کھانا کھائیں اورچاھیں تو اکیلی کھائیں، باقی میں اپنے والدین کے ساتھ کھانا کھاؤں،  اس میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں؟  کیا یہ میری  اہلیہ کا شرعی حق اور جائز فیصلہ ہے؟ گھر میں موجود جو میں خود کھاتا ہوں وہی کھلاتا ہوں، رہنے کے لیے اللہ نے ایک چھت دی اتنی استطاعت نہیں کہ کھر الگ کر سکوں۔

جواب

آپ نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے اس کے مطابق عمل کرنے میں شرعاً کچھ حرج نہیں، اگر آپ کے والدین کی خواہش یہ ہے کہ آپ سب مل کر کھانا کھائیں تو والدین کی خواہش کو ترجیح دینا چاہیے،  والدین کے اپنے حقوق ہیں، جب کہ اہلیہ کے اپنے حقوق ہیں، دونوں کے حقوق میں کوئی تعارض نہیں،  اہلیہ کو بھی کسی طریقہ سے راضی کر لیا کریں؛ تا کہ ناراضگیاں جنم نہ لیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201201

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں