بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کو یہ کہنے کا حکم کہ ’’مجھے آپ کی داڑھی پسند نہیں ہے‘‘


سوال

ایک بندے نے مجھے بتایا کہ اگر بیوی اپنے شوہر سے کہے کہ مجھے آپ کی ڈاڑھی پسند نہیں ہے تو ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔  کیا کہتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بیچ براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

داڑھی رکھنا امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی اور تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ سنت اور شعائرِ  اسلام میں سے ہے، چنانچہ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ، اور  داڑھی کا منڈانا  یا ایک مشت سے کم داڑھی  رکھنا بالاجماع حرام ہے، داڑھی منڈانے والا یا ایک مشت سے کم رکھنے والا اس عظیم الشان سنت کے ترک کرنے کی وجہ سے فاسق ہو جاتا ہے، حضورِ پاک ﷺ کی کسی بھی سنت کا مزاق اڑانا یا اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرنا باعثِ کفر ہے، جب کہ داڑھی تو حضور ﷺ کی بہت بڑی سنت ہے جس کو حضور ﷺ نے کفار و مشرکین کی مخالفت کی علامت قرار دیا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  اگر شوہر کے داڑھی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے اس کی داڑھی پراگندہ، میلی کچیلی اور بکھری ہوئی ہو ، اس وجہ سے بیوی اس سے کہے کہ تمہاری داڑھی اس طرح ہونے کی وجہ سے مجھے پسند نہیں ہے ، اور بیوی کا مقصود نفسِ داڑھی کی نا پسندیدگی نہ ہو تو  اس کا ایمان اور نکاح باقی رہے گا، البتہ اس طرح کے جملے بولنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔  لیکن  اگر بیوی شوہر کو یہ کہے کہ ’’مجھے داڑھی ہی پسند نہیں ہے‘‘ تو اس طرح کہنے کی وجہ سے وہ دائرہ ایمان و اسلام سے خارج ہوجائے گی اور دونوں کا نکاح بھی ٹوٹ جائے گا، اس بیوی پر لازم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور صدقِ دل سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح بھی کرے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 222):

"وفي الفتح: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد.

ثم قال: ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمداً، بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافاً بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201465

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے