بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کو طلاق دینا


سوال

شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر تم نہیں رہنا چاہتی  ہو تو قاضی  سے طلاق نامہ لاؤ۔ بیوی قاضی سے طلاق نامہ لائی جس میں لکھا ہوا تھا کہ میں فاطمہ (یعنی بیوی ) تم(صادق علی ) کو ایک طلاق، دو طلاق ،تین طلاق دے کر فارغ کرتی ہوں ،کیااس طرح بیوی کے شوہر کو طلاق دینے سے طلاق ہوجائے گی؟

جواب

طلاق دینے کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے عورت کو نہیں، اگر عورت اپنے شوہر کو طلاق دے دے تو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب عورت نے طلاق نامہ میں یہ الفاظ لکھوائے ہیں کہ ’’میں فاطمہ صادق علی کو ایک طلاق، دو طلاق ، تین طلاق دے کر فارغ کرتی ہوں‘‘ تو اس سے دونوں کے مابین کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

البحرالرائق میں ہے :

"(قوله: ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ )؛ لصدوره من أهله في محله، وهو بيان للمحل وشرائطه فأشار إلى محله بذكر الزوج".(9/133)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200370

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں