بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے یہ کہے کہ ہمارے درمیان ظہار ہوا ہے تو کیا حکم ہے؟


سوال

اگر کوئی اپنی بیوی سے غیر ارادی طور پر یہ کہے کہ ظہار ہمارے درمیان ہوا ہے اور انہوں نے  ظہار کےا لفاظ نہیں کہے ہیں او ر ایک مہینہ کی دوری اختیار کرلی تو ؟ کیا ظہار ہوا ہے؟

جواب

بیوی سے اس با ت کا اقرار کرنا کہ ہمارے درمیان ظہار ہوا ہے اس سے ظہار ہوجائے گا، اگرچہ اس سے پہلے ظہار کے الفاظ استعمال نہ کیے گئے ہوں۔ اب ساتھ رہنے سے قبل کفارہ ادا کرنا ضروری ہے،اور کفارے میں دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا لازم ہے، اگربڑھاپے،ضعف، یا بیماری کے باعث  مسلسل دوماہ روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو  تو ساٹھ مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہوگا، روزہ رکھنے  کی طاقت ہو تو روزے ہی رکھنے ہوں گے، صرف اس بنیاد پر کہ دو ماہ لمبا عرصہ ہے روزے چھوڑ کر کھانا کھلانے کی طرف جانا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200728

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے