بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تین جمعے مسلسل ترک کرنے والے کا حکم / بیوی سے غیر فطری طریقے سے جماع کرنا


سوال

1- مسلسل چار نمازِ جمعہ نہ پڑھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

2- کیا بیوی کے ساتھ دبر میں جماع کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

1- جمعہ کی نماز فرض ہے اور بلاعذر جمعہ کی نماز ترک کرنے والا سخت گناہ گار ہے، احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کی نماز چھوڑنے والوں سے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے :

’’ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں راوی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منبر کی لکڑی (یعنی اس کی سیڑھیوں) پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ نمازِ جمعہ کو چھوڑنے سے باز رہیں،  ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں شمار ہونے لگیں گے‘‘۔

نیز ایک دوسری روایت میں ہے :

’’ حضرت ابی الجعد ضمیری راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو آدمی محض سستی و کاہلی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگائے دے گا‘‘۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی ، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

مشکاۃ شریف کی ایک اور روایت میں ہے :

’’ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو آدمی بغیر کسی عذر کے نماز جمعہ چھوڑ دیتا ہے وہ ایسی کتاب میں منافق لکھا جاتا ہے جو نہ کبھی مٹائی جاتی ہے اور نہ تبدیل کی جاتی ہے‘‘.  اور بعض روایات میں یہ ہے کہ ’’جو آدمی تین جمعے چھوڑ دے‘‘ (یہ وعید اس کے لیے ہے)۔

اس حدیث کی تشریح میں صاحب مظاہر حق لکھتے ہیں :

’’ مطلب یہ ہے کہ ترکِ جماعت کے جو عذر ہیں مثلاً کسی ظالم اور دشمن کا خوف، پانی برسنا، برف پڑنا یا راستے میں کیچڑ وغیرہ کا ہونا وغیرہ وغیرہ اگر ان میں سے کسی عذر کی بنا پر جمعہ کی نماز کے لیے نہ جائے تو وہ منافق نہیں لکھا جائے گا، ہاں بغیر کسی عذر اور مجبوری کے جمعہ چھوڑنے والا منافق لکھا جائے گا  ...  حاصل یہ ہے کہ نمازِ جمعہ چھوڑنے والا اپنے نامہ اعمال میں کہ جس میں نہ تنسیخ ممکن ہے اور نہ تغیر و تبدل ، منافق لکھ دیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ نفاق جیسی ملعون صفت ہمیشہ کے لیے چپک کر رہ جاتی ہے؛ تاکہ آخرت میں یا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے عذاب میں مبتلا کر دے یا اپنے فضل و کرم سے درگزر فرماتے ہوئے اسے بخش دے۔  غور و فکر کا مقام ہے کہ نمازِ جمعہ چھوڑنے کی کتنی شدید وعید ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے عذاب سے محفوظ رکھے‘‘۔

ان احادیث سے جمعہ کی نماز کی اہمیت کا علم ہوتاہے، نیز ترکِ جمعہ پر جو وعیدیں وارد ہیں وہ بھی ان روایات میں واضح طور پر مذکور ہیں ۔البتہ سستی ،کاہلی اور غفلت کی وجہ سے اگر کسی سے نمازِ جمعہ چھوٹ جائے تو اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔

2- واضح رہے کہ بیوی کے ساتھ پیچھے کے راستے سے جماع کرنا  حرام ہے  اور   یہ عمل بدترین  گناہِ کبیرہ ہے اور خداوندی غیض وغضب کا باعث  ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ملعون من أتى امرأته في دبرها". (سنن أبي داود، ت الأرنؤوط (3/ 490)

یعنی ایسا شخص ملعون ہے جو عورت کی پچھلی شرم گاہ میں جماع کرتا ہے۔

مسند احمد میں ہے :

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الذي يأتي امرأته في دبرها لاينظر الله إليه". ( مسند أحمد، ت شاكر (7/ 399)

یعنی اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف نظر نہیں فرمائیں گے جو  پچھلی شرم گاہ میں جماع کرتا ہے۔

البتہ اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر کسی سے یہ گناہ سرزد ہو جائے تو اس گناہ سے سچے دل سے توبہ کر کے آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرے۔ اور اگر باز نہ آئے تو بیوی کو چاہیے کہ حتی الوسع اسے اس فعلِ قبیح سے روکے، پھر بھی باز نہ آئے تو خاندان کے بزرگوں کے سامنے مسئلہ پیش کرکے جدائی کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200670

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے