بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوٹی پارلر کی کمائی


سوال

کیا بیوٹی پالر کی کمائی جائز ہے جب کہ اس پالر میں خلاف شرع کام بھی ہوتے ہیں؟

جواب

اگر  بیوٹی پارلرمیں شرعی شرائط کالحاظ رکھاجاتاہو، مثلاً: وہاں کاماحول غیر شرعی نہ ہو، مردوں سے اختلاط نہ ہو،  پارلر صرف عورتوں کی زیب وزینت کے لیے مختص ہو، کسی ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہوجیسے: عورتوں کے سر کے بالوں کا کاٹنا ،غیر شرعی بھنویں بنوانا، اعضاءِ مستورہ کا کھلنا وغیرہ۔ تو ان شرائط  کے ساتھ بیوٹی پارلرکی اجازت ہوگی  اور اس کی کمائی حلال ہوگی۔

اور اگر بیوٹی پارلر میں غیر شرعی امور کا ارتکاب ہو تو اس کے بدلہ میں کمائی جانے والی رقم ناجائز ہوگی۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات جلد چہارم ، ص:403 تا 407 ،طبع مکتبہ بینات بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200995

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے