بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک کی سیکورٹی ملازمت کا حکم


سوال

میں پاک آرمی کا ریٹائرڈ سپاہی ہوں اور اس وقت ایک سیکورٹی کمپنی کے اندر کام کرتا ہوں ، میری ڈیوٹی زرعی ترقیاتی بنک کی سیکورٹی کی ہے۔ اب جب کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ سیکورٹی کمپنی بنک نے خود بنوائی ہے یا اس کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے۔ میری تنخواہ اور دیگر مراعات سیکورٹی کمپنی کی طرف سے ہی آتی ہے ، مجھے بتایا جائے کہ میں نوکری کرتے ہوئے کہیں سودی کاروبار میں ملوث تو نہیں ؟  کیا میرا اس سیکورٹی کمپنی میں کام کرنا جائز ہے؟ براہ مہربانی یہ بھی مد نظر رکھا جائے کہ اس وقت میری پنشن 9000 اور تنخواہ 20000 ہے، اس کے علاوہ ایک پارٹ ٹائم کاروبار(ٹکی ٹافی کی سپلائی ) سے کم و بیش 6000 ماہانہ مل جاتا ہے جب کہ میرے گھر کے کھانے پینے کے ماہانہ اخراجات 15 سے 20 ہزار ہیں اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں. میں بہت ہی ذہنی خلش میں مبتلا ہوں کہ کہیں میں سود میں ملوث تو نہیں ، اور یہ کہ میں یہ نوکری جاری رکھ سکتا ہوں کہ نہیں ؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ تصریح کے مطابق  مذکورہ سیکورٹی کمپنی بینک ہی کا ایک ذیلی ادارہ ہے یابنک نے مذکورہ سیکورٹی کمپنی خود بنوائی ہے ،لہذابینک کی سیکورٹی کی ملازمت جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ کسی بھی ادارے  میں ملازمین کی تنخواہیں اور دوسرے مصارف  آمدن سے پورے کیے جاتے ہیں اور بینک کی آمدن میں اکثریت اور غلبہ سود اور ناجائز منافع کا ہوتاہے ؛ اس لیے بینک کی ملازمت جائز نہیں ہے، کسی جائز ذریعہ سے ملازمت تلاش کرنی چاہیے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143904200014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے