بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک کی انوسٹمنٹ پر قائم کمپنی میں نوکری کرنا


سوال

میں نے یہ بات پڑھی ہے کہ  بینک میں ملازمت حرام ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کسی کمپنی میں کام کرنا صحیح ہے جو بینک کے لیے کام کرتی ہے  یا بینک کے پیسے پہ کام کر رہی ہے۔ ان کا کام کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ ان لوگوں نے بینک سے معاہدہ کیا ہے کہ جب تک ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تب تک بینک ملازمین کی تنخواہ دے گا اس کے بعد منافع میں سے حصہ بینک کو جائے گا۔

جواب

اگر مذکورہ کمپنی کا اصل کام حلال ہے، تو ایسی صورت میں ملازمین کی تنخواہ حلال شمار ہوگی، رہی بات مالکان اور بینک کے مابین معاہدے کی تو اس کی ذمہ داری ملازمین پر عائد نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے