بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک کا کام کرکے اس اجرت لینے کا حکم


سوال

ایک آدمی کو سودی بینک اپنے قرضے کی وصولی کے لیے اپنا وکیل بناتا ہے، تو کیا اس وکالت کی اجرت صحیح ہو گی؟

جواب

بینک کو اپنی خدمات فراہم کرکے اس سے اجرت لینا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143904200071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے