بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک میں کسی کی طرف سے رقم جمع کراکر اس پر اضافی رقم وصول کرنا نیز اس کام میں انویسمنٹ کرنا


سوال

 کسی ملک میں نیشلٹی لینے کےلیےایک مخصوص رقم بنک میں رکھنی پڑتی ہے، آپ کا کام ایجنٹ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میری فیس دو سو ڈالر ہے،  اگر آپ کے پاس رقم ہو  بنک میں رکھنے کے لیےاور اگر رقم نہیں ہے تو اپنی طرف سے رقم جمع کراتا ہے سو ڈالر اضافی وصول کرتا ہے،  کیا ایسا معاملہ کرنا درست ہے؟  دوسرا سوال یہ ہے کہ میں اگر اپنی رقم ایجنٹ کو دوں اور اس یہ معاملہ طے کر لوں کہ تم یہ رقم رکھو اور لوگوں کے اکاؤنٹ جمع کرواؤ،  نفع دونوں کے درمیان برابر ہو گا، کیا اس طرح معاملہ کرنا درست ہے؟

جواب

کسی کی طرف سے بینک میں رقم جمع کر اکر اس پر اضافی رقم وصول کرناشرعاً جائز نہیں ہے، جب کام جائز نہیں ہے تو اس میں انویسمنٹ کرنا بھی جائز نہیں۔

الإشراف على مذاهب العلماء لابن المنذر (6/ 230):

"قال أبو بكر: م 3849 - أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم على أن الحوالة  بجعل يأخذه الحميل، لاتحل، ولاتجوز". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے